تبلیغات
شیعه علماء کونسل پاکستان

allama-arif-vahedi

 شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی کے مطابق صوبہ بلوچستان کے صدر علامہ سید حسن مبلغ اور صوبائی جنرل سیکریٹری لیاقت علی ہزارہ کی انتھک کوششوں اور شب و روز کی جدوجہد اور قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی کی لمحہ بہ لمحہ رہنمائی ‘ ہدایات اور سرپرستی کی بدولت گذشتہ کئی روز سے تفتان اور کوئٹہ میں مقامات مقدسہ کی زیارت سے آنے اور جانے والے زائرین کے رکے ہوئے قافلوں بخیر و عافیت اپنی منزل مقصود تک پہنچ گئے جس پر شیعہ علماء کونسل پاکستان بلوچستان کے صدر علامہ سید حسن مبلغ اورجنرل سیکریٹری لیاقت علی ہزارہ نے سیکورٹی فورسز اور ایف سی بلوچستان کی کوششوں اور اقدامات کو سراہا ہے اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی یہ سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری رہے گا۔

مختلف علماء کرام‘ اکابرین اور شیعہ علماء کونسل کے عہدیداروں اور کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ قم المقدسہ ہو یا مشہد مقدس‘ کربلا و نجف ہو یا دیگر مقدس مقامات پاکستانی زائرین بلاتفریق مذہب ومسلک انتہائی عقیدت و احترام سے سارا سال مقامات مقدسہ کی زیارات کے لئے عازم سفر رہتے ہیں۔ مٹھی بھر شرپسند عناصر جن کا مذہب و مسلک فقط اور فقط دہشت گردی ہے ‘ کئی سالوں سے ان زائرین کو نشانہ بنارہے ہیں مگر ان پر واضح ہوکہ ایسے بزدلانہ اقدامات سے نہ تو زائرین کی بزرگان دین اور مقدس ہستیوں کے حوالے سے عقیدت و احترام میں کمی لائی جاسکتی ہے اور نہ ہی ان کے شوق زیارت کودبایا جاسکتا ہے۔

علامہ عارف واحدی نے ایف سی بلوچستان اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے رکے ہوئے زائرین کے قافلوں کو مناسب سیکورٹی فراہم کرنے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی سخت اور فول پروف انتظامات کے ذریعہ زائرین کی سیکورٹی کا انتظام کیا جائے گا اور دہشت گردوں اور قاتلوں کو نشانہ عبرت بنایا جائے گا


  • آخرین ویرایش:یکشنبه 1 تیر 1393
نظرات()   
   

allama-mazhar-alvi-suc-panjab

 سانحہ ماڈل ٹاون لاہور میں جانبحق ہونیوالے عوامی تحریک پاکستان( منہاج القرآن) کے کارکنان کی رسم قل خوانی میں شیعہ علماء کونسل کا ایک وفد علامہ مظہر عباس علوی کی سربراہی میں شرکت کی ۔ تفصیلات کے مطابق شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صوبائی صدر علامہ مظہر عباس علوی نے اپنے خطاب میں تحریک منہاج القرآن کے کارکنوں پر ہونیوالے پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ جمہوری معاشروں میں اس طرح کی غیر جمہوری حرکت انتہائی تعجب خیز ہے، پولیس کا اپنی ہی عوام پر بیہمانہ تشدد نہ صرف قابل افسوس بلکہ قابل مذمت بھی ہے، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے،لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ کسی بھی عوامی مسئلے پر احتجاج کرنا سیاسی جماعتوں کاحق ہے اور جمہوریت کا حسن بھی یہی ہے کہ تنقید کو صبر و تحمل سے برداشت کیا جائے مگر جس طرح کے واقعات گزشتہ روز ہوئے ہیں وہ نہ صرف قابل افسوس بلکہ انتہائی تشویش کا باعث ہیں کہ پولیس نے اپنی ہی عوام پر براہ راست گولیاں برسادیں جس سے 8قیمتیں جانیں ضائع اور متعدد زخمی ہوگئے حالانکہ متبادل ذرائع بھی استعمال کرکے مظاہرین کو منتشر کیا جاسکتاتھا ۔ انہوں نے کہاکہ اس افسوسناک واقعہ پر تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری ،جاں بحق کارکنوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں جبکہ زخمی افراد کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا گو ہیں۔

اس وفد میں شیعہ علماء کونسل پنجاب کے سینئر نائب صدر جناب حافظ کاظم رضا نقوی ، جناب علی عمران علوی ، جناب آصف زیدی اور لاہور ڈویژن کے صدر سید شہباز حیدر نقوی شامل تھے


  • آخرین ویرایش:یکشنبه 1 تیر 1393
نظرات()   
   

allama-arif-wahidi-11

 شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے جیو بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی  صحافت کے حامی ہیں، صحافی برادری بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور ضابطہ اخلاق مرتب کرے تاکہ غلط فہمیاں ختم ہوسکیں، آئے روز مختلف چینلز کی بندش تشویش ناک ہے، حکومت مثبت تنقید برداشت کرے کیونکہ آزاد میڈیا ملک میں مستحکم جمہوریت و تواناءپاکستان کےلئے ضروری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر سے جاری بیان میں کیا۔انہو ں نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ عوام کے حقوق کی بات کی ہے اور ہمیشہ سے مطالبہ رہاہے کہ قوم کے سامنے حقائق لائے جائیں اور سچ کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ آزاد میڈیا بھی پسے ہوئے طبقات ، مظلوم عوام کی آواز ذمہ داران تک پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہاہے جبکہ دوسری پاکستان کے خلاف ہونے والے پراپیگنڈہ کا بھی موثر جواب دے رہاہے انہوںنے موجودہ دور میڈیا وار کا ہے اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ مثبت اور تعمیری تنقید برداشت کرے اور میڈیا کےلئے آسانیاں پیدا کر ے ۔ آئے روز مختلف ٹی وی چینلز کی بندش تشویشناک ہے جبکہ میڈیا کو بھی اب ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اس کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ ایک ضابطہ اخلاق فی الفور مرتب کریں اور اس پر عملدرآمد کرائیں تاکہ غلط فہمیوں کا بھی تدارک ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ ہم آزادی اظہار کے قائل ہیں لیکن چاہتے ہیں اظہار رائے ملکی اقدار، اسلامی روایات کے مطابق ہوں اور ایسا کوئی بھی پروگرام نہ دکھایا جائے جس سے کسی کی دل آزاری ہو ۔


  • آخرین ویرایش:یکشنبه 1 تیر 1393
نظرات()   
   

quaid-e-millat-14

  قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سیدساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ بھارت سے تعلقات ضرور بڑھائے جائیں مگر مسئلہ کشمیر کے معاملے پر اصولی موقف برقرار رکھا جائے، چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر خطہ کی عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم میاں نوازشریف کے دورئے بھارت کے حوالے سے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا ۔  قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ وزیراعظم میاں نوازشریف کا دورئہ بھارت خوش آئند ہے اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتر ی آئے گی معاملات کا حل بھی مذاکرات میں ہی ہے لیکن اس ساری صورتحال میں مسئلہ کشمیر کو فوقیت ہونی چاہیے کیونکہ بھارت کے ساتھ اصل مسئلہ مقبوضہ اور متنازعہ علاقے کی ہے اور اس معاملے پر ملکی قیادت کا فوکس ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو خطہ کے عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے اور انہیں استصواب رائے کا پورا پورا حق دیا جائے اور وزیراعظم اس امر کو یقینی بنائیں کہ مسئلہ کشمیر ان کے دورے میں ترجیح ہوگا کیونکہ اس وقت مظلوم کشمیری پاکستان کی جانب ہی دیکھ رہے ہیں اور پاکستان کو بھی ایک بہترین وکیل کا کردار ادا کرنا چاہیے۔


  • آخرین ویرایش:-
نظرات()   
   

n00167679-r-b-002

قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ حق و صداقت کی سربلندی اور دین مبین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے جان و مال اور اولاد کا نذرانہ پیش کرنا خانوادہ عصمت و طہارت کا شیوہ رہا ہے اور مذہب حق کی حمایت اور بقاء کے لئے نواسہ پیغمبر ؐ نے اپنے نانا کے مدینہ کو خیرباد کہہ کر رہتی دنیا تک کے لئے یہ ثابت کردیا کہ اگر دین اسلام پر مشکل اور کڑا وقت آجائے تو وطن چھوڑنے سے بھی دریغ نہیں کیا جانا چاہیے۔

قافلہ کربلا کی مدینہ سے روانگی کے روز کی مناسبت سے اپنے پیغام میں علامہ سیدساجد نقوی نے کہا کہ نواسہ رسول اکرمؐ حضرت امام حسین علیہ السلام نے واقعہ کربلا سے قبل مدینہ سے مکہ اور مکہ سے حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کرکے کربلا کے سفر کے دوران اپنے قیام کے اغراض و مقاصد کے بارے میں واشگاف انداز سے اظہار کیا اوردنیا کی ان غلط فہمیوں کو دور کیا کہ آپ کسی ذاتی اقتدار‘ جاہ و حشم کے حصول‘ ذاتی مفادات کے مدنظر یا کسی خاص شخصی مقصد کے تحت عازم سفر ہوئے ہیں اور موت جیسی اٹل حقیقت کے یقینی طور پر رونما ہونے کے باوجود بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں کی طرف سے ہر قسم کی مالی‘ دنیاوی ‘ حکومتی اور ذاتی پیشکش کو ٹھکرایا اور صرف قرآن و سنت‘ شریعت محمدی‘ دینی احکام ‘ اوامر و نواہی اور اسلام کے نظام کے نفاذ کو ترجیح دی۔

علامہ سیدساجد نقوی نے کہا کہ امام عالی مقام کی بے مثال قربانی اور تحریک کربلا سے آج بھی دنیائے عالم میں چلنی والی آزادی و حریت کی تحریکیں استفادہ کررہی ہیں اور چونکہ کربلا فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام ہے اس لئے ہمارے لئے مشعل راہ اور رہنمائی کا باعث ہے۔ دنیا میں جو طبقات فرسودہ‘ غیر اسلامی‘ لادین‘ غیر منصفانہ‘ ظالمانہ‘ آمرانہ اور بادشاہانہ نظاموں کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں کربلا ان کے لئے سب سے بڑی مثال اور مینارہ نور ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ معاشروں کے تمام حاکم طبقات اور محروم و مظلوم طبقات امام حسین ؑ کی جدوجہد سے استفادہ کرسکتے ہیں کیونکہ آپ نے فقط ایک مذہب یا مسلک یا امت کی فلاح کی بات نہیں کی بلکہ پوری انسانیت کی نجات کی بات کی ہے۔ البتہ خصوصیت کے ساتھ محروم‘ مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کیا۔ اس کے ساتھ حکمرانوں کی بے قاعدگیوں‘ بے اعتدالیوں‘ بدعنوانیوں‘ کرپشن‘ اقرباء پروری‘ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور شہریوں کے مذہبی‘ شہری اور قانونی حقوق کی پامالی کی طرف بھی نشاندہی فرمائی۔ امام حسین ؑ کے اس اجتماعی انداز سے آج دنیا کا ہر معاشرہ اور ہر انسان بلا تفریق مذہب و مسلک استفادہ کرسکتا ہے۔


  • آخرین ویرایش:چهارشنبه 7 خرداد 1393
نظرات()   
   

10417485_739389362750050_1639739236391165753_n
 شیعہ علماءکونسل صوبہ خیبر پختون خواہ کے صوبائی صدر علامہ محمد رمضان توقیرنے دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ مشہد مقدس کے وفد کے ہمراہ حضرت آیت اللہ سید محمد باقر ی شیرازی رحمت اللہ علیہ کی وفات پر ان کے فرزندان اور برادران سے فاتحہ خوانی کی اور قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی مدظلہ العالی کی طرف سے تعزیتی پیغام پہنچایا ۔ علامہ محمد رمضان توقیر نے حضرت آیت اللہ السید محمد باقر شیرازی رحمۃ ا للہ کے فرزند ارجمند حجت الاسلام والمسلمین السید صادق شیرازی سے گفتگو کرتے  ہوئے  کہا  کہ  مرحوم حضرت آیت اللہ السید محمد باقر شیرازی رحمت اللہ علیہ نے ہمیشہ قائد ملت جعفریہ پاکستان  کی تمجید اور ملت تشیع پاکستان کے حقوق کا دفاع کیا اور ہر مشکل اور کٹھن گھڑی میں ساتھ رہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حضرت آیت اللہ السید محمد باقر شرازی رحمت اللہ علیہ کی وفات پر قائد ملت جعفریہ پاکستان کے ساتھ ساتھ پورے شیعیان پاکستان غم زدہ ہیں اور ہم سب آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔اس موقع پر حجت الاسلام والمسلمین السید صادق شیرازی کے ہمراہ حضرت آیت اللہ السید محمد باقر شیرازی کے داماد حجت الاسلام والمسلمین آقای سیبویہ اور مرحوم کے برادران آیت اللہ السید محمدعلی شیرازی ، حجۃ الاسلام السیدحسن شیرازی اور حوزہ کے بزرگ اساتید، علماء اور طلاب کثیر کی تعداد میں موجود تھی ۔

دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ مشہد مقدس کے وفد میں دفتر کے مہتمم و نمائندہ قائد ملت جعفریہ پاکستان محترم مولانا وحید علی ساجدی، مولانا عطا محمد باقری( سابقہ  نمائندہ قائد ملت جعفریہ) حجت الاسلام السید موسی رضا نقوی(رکن مجلس نظارت ) حجۃ الالسلام الشیخ نثار حسین مہدوی ( سابقہ  نمائندہ قائد ملت جعفریہ ) حجۃ الاسلام مولانا فیاض حسین عرفانی ( سابقہ نمائندہ قائد ملت جعفریہ) حجۃ الاسلام مولانا عبد القیوم سعیدی (سابقہ رکن جعفریہ کونسل شعبہ مشہد مقدس )  حجت الاسلام مولانا الفت حسین ساقی، مولانااحمد حسن ترابی (جنرل سیکریٹری) مولاناآصف رضا سرگانی (آفس سیکریٹری ) موجود تھے۔


  • آخرین ویرایش:چهارشنبه 7 خرداد 1393
نظرات()   
   

10177373_1421071941502745_514718798973257269_n
 شیعہ علماءکونسل صوبہ خیبر پختون خواہ کے صوبائی صدر علامہ محمد رمضان توقیر زیارتی  دورے پرمشہد مقدس پہنچ گئے . جعفریہ پریس کی رپورٹ کے مطابق علامہ  محمد رمضان توقیر مشہد مقدس میں اپنے قیام کے دوران حضرت امام رضا علیہ السلام کی زیارت  کے علاوہ دفتر نمائندہ ولی فقیہ وقائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ مشہد کا دورہ کیا اوردفتر قائد ملت جعفریہ شعبہ مشہد کی  تنظیمی نشست سے خطاب کیا  -

تفصیلات کے مطابق اس نشست کا آغاز تلاوت کلام پاک  سے ہوا بعد ازآں نمائندہ قائد و دفتر مشہد مقدس کے مہتمم محترم مولانا وحید علی ساجدی نے ابتدائیہ کلمات میں شیعہ علماءکونسل صوبہ خیبر پختون خواہ کے صوبائی صدر علامہ محمد رمضان توقیر کو مشہد مقدس میں  تشریف آوری پرخوش آمدید کہا اور دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ مشہد مقدس کی فعالیت و کاکردگی سے آگاہ کیا ۔ اس موقع پرعلامہ محمد رمضان توقیر نے دفتر مشہد مقدس کی کارکردگی کو سراہتے  ہوئے کہا کہ دفتر شعبہ مشہد مقدس کی اتنے کم وقت میں بہترین کارکردگی پر مسئول دفتر اور ان کے ساتھیوں کی کاوشیں قابل تحسین ہیں مزید بزرگان کی سرپرستی اور مشوروں کےساتھ اس دفتر کو بہتر فعال بنانے کی ضرورت ہے ۔ اجلاس میں دفتر مشہد مقدس کے مہتمم محترم مولانا وحید علی ساجدی ، مولانا عطا محمد باقری( سابقہ صدر دفتر قائد ملت جعفریہ شعبہ مشہد مقدس ) حجۃ الاسلام السید موسی رضا نقوی(رکن مجلس نظارت ) حجۃ الاسلام فیاض حسین عرفانی ( سابقہ صدر دفتر قائد ملت جعفریہ شعبہ مشہد مقدس ) حجۃ الاسلام مولانا عبد القیوم سعیدی (سابقہ رکن جعفریہ کونسل شعبہ مشہد مقدس ) آصف رضا سرگانی (آفس سیکریٹری ) اور سعادت توقیر (فرزند ارجمند علامہ محمد رمضان توقیر)  موجود تھے۔۔


  • آخرین ویرایش:چهارشنبه 7 خرداد 1393
نظرات()   
   

10294241_285851021576551_3051806547881199514_n
قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ دور حاضر میں انسانیت اور مسلمانوں کو درپیش مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے جوانوں کا کردار کلیدی حیثیت کا حامل ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ زمانہ جوانوں کا زمانہ ہے اگر وہ بزرگان کے تجربات سے استفادہ اور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر مخلصانہ انداز میں جدوجہد کریں تو معاشرے کی رہنمائی کا فریضہ بہتر انداز میں انجام دے سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکرنڈ نواب شاہ میں جعفریہ یوتھ صوبہ سندھ کےاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں پورے صوبہ بھرسے جعفریہ یوتھ کے ناظمین ‘ معاونین ‘ علماء کرام اور شیعہ علماء کونسل کے بعض عہدیداران نے جبکہ جعفریہ یوتھ کے مرکزی ناظم اعلی سید اظہار بخاری نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ ہم قومی جماعت کے پلیٹ فارم سے جس جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں اس میں جعفریہ یوتھ ا ایک اہم ترین جزو اور حصہ ہے ہماری فعالیت کو عوام تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ جعفریہ یوتھ ہے لہذا جعفریہ یوتھ کی فعالیت دراصل ملت اور قوم کی فعالیت ہے جعفریہ یوتھ کے ذمہ داران کو اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے اور قومی جماعت کی پالیسیوں سے مسلسل آگاہی حاصل کرکے عوام تک یہ آگاہی منتقل کرنے کا مستقل بندوبست کرنا چاہیے۔ ہم نے جب بھی قومی دفاعی پالیسی کا اعلان کیا تو اس کے نفاذ کی سب سے زیادہ ذمہ داری جعفریہ یوتھ پر ہوگی لہذا آپ کو اس کی تیاری کے لیے خصوصی انتظامات کرنا ہوں گے۔

اس موقع پر جعفریہ یوتھ کے مرکزی ناظم اعلی سید اظہار بخاری نے کہا کہ جعفریہ یوتھ کے جوان رہبریت ‘ قیادت اور قومی پلیٹ فارم کی پالیسیوں اور اعلانات کے نفاذ کے لیے ہمہ وقت آمادہ وتیار ہیں اس حوالے سے ملک بھر میں تنظیم سازی اور فعالیت کا سلسلہ جاری ہے جس کی تازہ مثال آج کا کامیاب اجلاس ہے۔ جعفریہ یوتھ نوجوانوں کا ہمہ جہت پلیٹ فارم ہے جو قیادت کی رہبری اور قومی جماعت کی رہنمائی کے تحت مصروف عمل ہے ہمارے امور اور خدمات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ ہماری توانائیاں اس کے لیے ناکافی پڑ جاتی ہیں جبکہ وسائل و امکانات فی زمانہ اس قدر کافی نہیں ہیں کہ قومی توقعات پر ہر صورت پورا اترا جاسکے اس کے باوجود جعفریہ یوتھ کے ناظمین ‘ معاونین اور کارکنان اپنی توان میں رہتے ہوئے تن من دھن نچھاور کئے ہوئے ہیں۔
شیعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کے صدر علامہ محمد باقر نجفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تنظیم اور جماعت میں جب تک نظم موجود نہ ہو تب تک کامیابی تو دور کی بات ہے فعالیت بھی ممکن نہیں ہوسکتی۔ نظم ہر تحرک کی بنیاد ہے غیر منظم اور بے ربط کام کبھی منزل تک نہیں پہنچا سکتا ۔ ہماری تنظیموں میں سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ان کے اندر نظم و ضبط کا بہت فقدان ہے جس کی وجہ سے ان کی فعالیت متاثر ہورہی ہے۔ جعفریہ یوتھ کے جوانوں سے ہمیں بہت ساری امیدیں اور توقعات وابستہ ہیں جس میں قوم وملت اور قومی جماعت میں نظم پیدا کرنا بھی ہے۔ جب نوجوان طبقہ نظم و ضبط اپنا لے گا تو قوم کے باقی افراد اور طبقات بھی نظم میں آجائیں گے جس کے بعد کامیابیاں مزید ہمارے قدم چومیں گی۔


  • آخرین ویرایش:شنبه 3 خرداد 1393
نظرات()   
   

10336792_237756343090402_8321610984599461291_n
 قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی  نے سکرنڈ میں مقامی رہنما اﷲ بخش جعفری کی رہائش گاہ پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ موجودہ حکومت میں کچھ روشنی کی کرنیں محسوس ہوئی تھیں کہ سابق حکومت سے کچھ بہتر ہو گا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ کرنیں بھی ماند پڑتی نظر آ رہی ہیں ،دہشت گردی اور امن و امان کا مسئلہ سزا پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے بڑھتا جا رہا ہے، اگر 2008 سے ہی سزا کے قانون پر عمل درآمد ہوجاتا تو آج یہ کیفیت نہ ہوتی، انہوں نے کہا کہ حکمران سابق ہوں یا موجودہ عوام کو حقائق سے بے خبر رکھا جا رہا ہے،کراچی میں ہائی کمان کی میٹنگ ہونے کے باوجود نتائج کا نہ نکلنا ایک سوالیہ نشان ہے، کراچی میں اتنی زیادہ وارداتوں کے باوجود ملزمان کا نہ پکڑا جانا یا سزا نہ ملنا بھی امن و امان میں خلل کا باعث ہے، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ طالبان سے مذاکرات کی ٹیم کی سچائی اور ذمے داری پر تو میں گفتگو نہیں کروں گا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ملک سے دہشت گردوں کا خاتمہ اور امن و امان بحال کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، ہمیں مذاکرات کےنتائج کا انتظار ہے، اگر نتائج نہ نکلے اور ریاست نے بھی کچھ نہ کیا تو کوئی لائحہ عمل بنائیں گے کیونکہ دہشت گردی نے ملک کو کھوکھلا کر ڈالا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے عوام شش و پنج میں مبتلا ہیں، اس موقع پر مرکزی رہنما سید عمران عباس کاظمی، سید جعفر نقوی، سید اظہار بخارری بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ بعد ازاں انہوں نے جعفریہ یوتھ کونسل کے صوبائی کنونشن سے بھی خطاب کیا جبکہ اس سے قبل جامعہ مسجد مصطفیٰ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔


  • آخرین ویرایش:شنبه 3 خرداد 1393
نظرات()   
   

10369610_807092702636276_4018617167048833138_n

 قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے ضلع نوابشاہ  سندھ کے مختلف مقامات کا دورہ کیا – تفصیلات  کے مطابق  20 مئی کو قائد ملت جعفریہ پاکستان سکرنڈ پہنچے جہاں پر علماء کرام ، تنظیمی کارکنان اور مومنین نے اپنے محبوب قائد کا پر تپاک اور شاندار اسقبال کیا، قائد ملت جعفریہ نے سکرنڈ میں مختلف علماء کرام و مومنین کے وفود سے ملاقاتیں کیں اورجعفریہ یوتھ سندھ  اجتماع سے خطاب کیا- سکرنڈ میں قیام کے بعد قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نواب چانڈیو گاؤں پہنچے جہاں پر موجود علماء کرام ، تنظیمی کارکنان اور مومنین نے اپنے محبوب قائد کا پر تپاک اور شاندار اسقبال کیا اس موقع پر قائد ملت نے علماء کرام و مومنین کے مختلف وفود سے ملاقاتیں کیں اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی بعد ازآں قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نوابشاہ سٹی پہنچے جہاں پر علماء کرام ، تنظیمی کارکنان اور مومنین نے اپنے محبوب قائد کا پر تپاک اور شاندار اسقبال کیا رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ نے امام بارگاہ امام علی رضا(ع) عظیم کالونی نوابشاہ میں منعقدہ جشن مولود کعبہ میں شرکت  اور ملکی حالات پر تفصیلی خطاب کیا جبکہ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے حسینی امام بارگاہ  میں موجود علماء کرام و مومنین سے بھی خطاب کیا اور مختلف علماء کرام و مومنین سمیت تنظیمی کارکنان  سے ملاقات اور گفتگو کی اس موقع پرشیعہ علماء کونسل سندھ کے صوبائی صدرعلامہ محمد باقر نجفی سمیت مختلف اضلاع کے صدور اور جید علماء کرام بھی قائد ملت جعفریہ پاکستان کے ہمراہ تھے-


  • آخرین ویرایش:شنبه 3 خرداد 1393
نظرات()   
   

sucflag
 علامہ شبیر حسن میثمی کی قیادت میں علامہ آغا عباس، علامہ ناظرعباس تقوی اورعلامہ جعفر سبحانی پر مشتمل اسلامی تحریک پاکستان و شیعہ علماء کونسل کے سیاسی سیل کا ایک اعلٰی سطحی  وفد گلگت کے دورہ پر حراموش پہنچا جہاں پر ایس یو سی گلگت ڈویژن کے صدرعلامہ شیخ مرزا علی، صوبائی وزیر پانی و بجلی دیدارعلی ،علامہ شیخ شہادت حسین ساجدی و دیگرعلما کرام سمیت جعفریہ یوتھ کے سینکڑوں کارکنان نے اپنے مہمان وفد کا پرتپاک استقبال کیا-

  رپورٹ کے مطابق حراموش میں ایک تنظیمی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں مہمان وفد سمیت ایس یو سی گلگت ڈویژن کے صدرعلامہ شیخ مرزا علی، صوبائی وزیر پانی و بجلی دیدارعلی ، ضلعی صدرعلامہ شیخ شہادت حسین ساجدی اور دیگرعلما کرام وکارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی- اجلاس میں سیاسی اجتماعی امور اور تنظیمی مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی -رپورٹ کے مطابق تنظیمی اجلاس میں تنظیم نوکرتے ہوئے حاجی خان زمان کوشیعہ علما کونسل حراموش کا نیا صدر منتخب کیا گیا نو منتخب صدر سے علامہ شیخ شہادت حسین نے حلف لیا- اس موقع پر نو منتخب صدر حاجی خان زمان نمائندہ ولی فقیہ و قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی پر بھرپور اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے  قومی وملی جماعت کی فعالیت کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔


  • آخرین ویرایش:شنبه 3 خرداد 1393
نظرات()   
   

10336700_1511893675705274_8705972944863623908_n

 شیعہ علماء کونسل گلگت کے صوبائی سیکرٹریٹ پونیال روڈ گلگت میں ایک اہم ڈویژنل تنظیمی اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسلامی تحریک پاکستان و شیعہ علماء کونسل کے مرکزی سیاسی سیل کے رکن علامہ شبیر حسن میثمی نے اپنے وفد کے ہمراہ خصوصی شرکت کی،اجلاس میں تنظیمی عہدیداران وکارکنان سمیت سماجی مذہبی شخصیات اور کثیر تعداد میں مومنین کرام نے شرکت کی – جعفریہ پریس کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں شیعہ علما کونسل گلگت کی تنظیم نوعمل میں لائی گئی ۔۔۔ رپورٹ کے مطابق اجلاس میں علامہ شیخ سجاد حسین قاسمی کو گلگت ڈویژنل صدر منتخب کیا گیا جبکہ صوبائی سطح پر آغا سید محمد عباس رضوی کو صدر اورعلامہ شیخ مرزا علی سینیئر نائب صدر ، جناب دیدار علی نائب صدر، جناب محمد علی شیخ سیکرٹری جنرل،  جناب سید حسن شاہ کاظمی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے طور پر منتخب کئے گئے نو منتخب اراکین سے آغا سید محمد عباس رضوی نے حلف لیا۔

اس موقع پرعلامہ شیخ مرزا علی نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کی سالمیت ، بقا اور مختلف زرائع سے تنظیمی وقار بلند رکھنا میری اولین ترجیح رہی،میں نے کوشش کی کہ قومی نظریہ ہرحال  میں زندہ رہے تاہم شہید مظلوم آغا سید ضیا الدین رضوی کی کمی بہت محسوس ہوتی رہی کیونکہ انکا براہ راست  نمائندہ ولی فقیہ سے رابطہ تھا، ہم بھی اسی نظریہ کے تحت اسی پالیسی پر گامزن ہیں-


  • آخرین ویرایش:شنبه 3 خرداد 1393
نظرات()       

10001426_1511900255704616_8766596859054962451_n
اسلامی تحریک پاکستان و شیعہ علماء کونسل کے مرکزی سیاسی سیل کے رکن علامہ شبیر حسن میثمی نے اپنے وفد کے ہمراہ  نگرل کا خصوصی دورہ کیا- نگرل دورہ میں علامہ سید محمد عباس رضوی ،علامہ ناظر عباس تقوی، علامہ جعفر سبحانی ودیگر علماء کرام علامہ شبیر حسن میثمی  کے ہمراہ تھے ۔ جہاں پرعمائدین نگرل نے آغا سید ابرار حسین الموسوی کی سربراہی میں وفد کا پرتپاک استقبال کیا ۔ مہمان وفد سے انجمن حیدریہ نگرل کے صدرنے اپنی کابینہ کے ہمراہ خصوصی ملاقات کی ۔ ملاقات میں مختلف امور پر غور و خوص کیا گیا ۔  اس موقع پرعمائدین نگرل نے نمائندہ ولی فقیہ و قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی اور اسلامی تحریک پاکستان پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔


  • آخرین ویرایش:شنبه 3 خرداد 1393
نظرات()       

n00385276-t
 شیعہ علماء کونسل و اسلامی تحریک پاکستان کے سیاسی سیل کے وفد نے اپنے دورہ گلگت کے دوران علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی قیادت میں گلگت بلتستان کے معروف عالم دین اور امام جمعہ والجماعت مرکزی امامیہ جامع مسجد گلگت آغا سید راحت حسین الحسینی سے انکی رہائش گاہ پر خصوصی ملاقات کی۔ وفد میں علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کے ہمراہ علامہ ناظر عباس تقوی، علامہ جعفر سبحانی، علامہ شیخ مرزا علی اور دیگر علماء کرام بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران قومی وعلاقائی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مرکزی سیاسی سیل کے رکن علامہ شبیر حسن میثمی نے آغا سید راحت حسینی کو اسلامی تحریک پاکستان کی سیاسی حکمت عملی سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے بھی آئندہ انتخابات کے حوالے سے تجاویز مانگیں۔ آغا سید راحت حسین الحسینی نے اپنی تجاویز اور آراء وفد کے سامنے پیش کیں۔ اس موقع پرعلامہ شبیر حسن میثمی نے واضح کیا کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی کی پالیسی پرعمل کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے بزرگ علماء، عمائدین اور تنظیمی عہدیداران سے مشاورت اور انکو اعتماد میں لیکر ہی ہم اپنی سیاسی حکمت عملی طے کرکے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔


  • آخرین ویرایش:شنبه 3 خرداد 1393
نظرات()   
   
یکشنبه 14 اردیبهشت 1393  10:39 ب.ظ
توسط:



نوجواں نسل کے اذہان میں شبہات ڈالے جا رہے ہیں کہ قومی قیادت نے ٢٥ سالوں میں کیا کیا؟ اس کا جواب تو اہل حل و عقد اور اہل خبرہ حضرات سے لینا چاہئے کہ سرزمین پاکستان کن حالات سے گذر رہی ہے اور ہماری ذمہ داری کیا ہے ، قیادت کی طرف سے ہونے والے اقدامات ان تقاضوں کے مطابق پورا اترتے ہیں یا نہیں ۔ پھر بھی:
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی حضرت امام خمینی اورحضرت امام خامنہ ای کی طرف سے سونپی گئی نمائندگی کے فرائض انجام دئے جا رہے ہیں؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی عالمی اہلبیت اسمبلی میں حضرت امام خامنہ ای کی طرف سے سونپی گئی نمائندگی کے تحت عالمی اہلبیت اسمبلی کی شوریعالی میں فرائض انجام دئے جائے رہے ہیں؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی عالمی تقریب مذاہب اسلامی اسمبلی میں حضرت امام خامنہ ای کی طرف سے سونپی گئی نمائندگی کے تحت عالمی تقریب مذاہب اسلامی اسمبلی کی شوریعالی میں فرائض انجام دئے جائے رہے ہیں؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی عالمی بیداری اسلامی اسمبلی میں حضرت امام خامنہ ای کی طرف سے سونپی گئی نمائندگی کے تحت عالمی بیداری اسلامی اسمبلی کی شوریعالی میں فرائض انجام دئے جائے رہے ہیں؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی شیعت کے خلاف داخلی اور خارجی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ملکی سطح پرشیعت کا اصلی چہرہ متعارف کرانے میں کامیاب ہوئے ؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی ملک میں شیعت کے اصل  چہرہ کی شناخت اور اسلامی مثبت کردارکی بنیاد پرجامعہ الازہرمصرکے سالانہ پروگرامز میں عالمی سطح پر شیعت کی ترجمانی کرتے ہوئے فقط آپ کی قیادت کو شرکت کا شرف حاصل ہے؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی عالمی تقریب مذاہب اسلامی کی شوریعالی کے فیصلہ جات کی روشنی اورقائد شہید کی دیرینہ آرزو اتحاد بین المسلمین اپنی عروج کی منزلیں طے کرتے ہوئے امت مسلمہ کی قیادت کی؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی سیاسی میدان اور الیکشن میں بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے ایوان زیریں اورایوان بالا سمیت سینٹ تک اپنی آواز پہچانے کے لئے نمائندگان پہنچائے؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی ایک نگران حکومت میں بننے والا وزیرتعلیم تحریک جعفریہ کا تھا؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی گلگت بلتستان میں تحریک جعفریہ کی حکومت رہی ہے؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی سرحد حکومت میں تحریک جعفریہ برابر کی شریک رہی ہے؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی شریعت بل، ناموس صحابہ بل اورحفصہ بل سمیت مختلف قانون سازاداروں کی سازشوں کو ناکام بنایا گیا؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی عدلیہ کو نشاندہی کراتے ہوئے شیعت کے خلاف سینکڑوں کتابوں اور لٹریچر پر پابندی لگوائی گئی؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی ڈیرہ اسماعیل خان، سیہون شریف اور پنڈی سمیت ملک بھر کے مختلف مقامات پرعزاداری جلوس بحال کرائے؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی سینکڑوں بے گناہ افراد کے کیسز میں کروڑں روپئے صرف کر کے انہیں آزاد کرایا گیا؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی سینکڑوں شہداء اور اسیروں کے اہل خانہ کی آبرومندانہ امداد کی جاتی ہے؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی تحریک جعفریہ کے نام پر گلگت بلتستان میں کئی اسکول قائم ہیں؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی آج بھی ایوان زیرین اور بالا میں مکتب کی ترجمانی کے لئے نمائندگان موجود ہیں؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی تکفیری گروہ کو معاشرتی،مذہبی میدان سمیت سیاست میں رسوا کر کے دیوارسے لگایا گیا؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی قومی سیٹ پر دوبار لدہیانوی کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا گیا؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی اس دفعہ بھی لدہیانوی سمیت تکفیری گروہ کا ایک فرد بھی نہ ایوان زریں اورنہ ہی ایوان بالا میں پہنچ سکا؟
کیا آپ کو معلوم ہے اسی ٢٥ سالہ قیادت میں ہی جب لدہیانوی کو ١١ ماہ بعد چور دروازے سے پارلیمنٹ میں پہنچایا گیا تو اسی قیادت نے گریبان سے پکڑ کر اسے باہر نکالا ہے؟
فبای آلای ربکما تکذبان؟



  • آخرین ویرایش:یکشنبه 14 اردیبهشت 1393
نظرات()   
   
  • تعداد کل صفحات :45  
  • 1  
  • 2  
  • 3  
  • 4  
  • 5  
  • 6  
  • 7  
  • ...  
آخرین پست ها