تبلیغات
شیعه علماء کونسل پاکستان - امتحانات میں سربلند

اس ساٹھ سالہ پاکستان کی تاریخ میں ہمارے مختلف اکابرین ملت،دانشمندحضرات ،علماء کرام اورقائدین عظام نے وسائل کی کمی اور ارتباطات کی قلت کے باوجودقومی خدمات انجام دیں ہیں یہاں تک قائد شہید نے قوم کی خاطراپنی جان تک قربان کردی (جزاء ھم اللہ خیرالجزاء) لیکن اتنے مسائل ،مشکلات اورمصائب سے دوچارنہیں ہوئے تھے جتنا

قائد ملت جعفریہ حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی ان مسائل سے دوچارہوئے اورسخت ترین امتحانات کامقابلہ کیا۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا اصل رازقومی واسلامی اتحاد تھا لہذاامام خمینی نے مسلمانوں کے اندر اتحاد و وحدت کی فضا کو اجاگر ، استعماری دشمن طاقتوں کوبے نقاب اوربیت المقدس کی آزادی کے لئے مختلف ممالک بالخصوس اسلامی ملکوں میں اپنے نمائندگان کا تعین کیا اسی طرح سے پاکستان میں بھی اپنانمائندہ مقررفرمایا۔

جب قرآنی آیات اوراحادیث نبوی کی روشنی میں امام خمینی کی طرف سے مسلمانوں کو عالمی پیمانے پراسلامی اتحاد کی دعوت دی تو استکباری دنیا میں پنمنے والی ( بارشی پانی پرنموداربلبلوں کی طرح نام نہاد) طاقتوں کواپنے اصلی چہرے، برطانیہ سیاسی پالیسی اورامریکی مکاریوں کے برملا ہونے کاخطرہ لاحق ہوا،اسی خطرے کے پیش نظر امریکی حکومت کی طرف سے سرکاری طورپرمکتب تشیع اورانقلاب اسلامی ایران کے خلاف سینٹ میں منظور شدہ نو سو ملین ڈالر جیسی رقموں کا انکشاف ہونے لگا۔

ان رقموں سے نام نہادمسلمان اورحقیقت شیطانی چہروں کواجیربنایاگیااوراس قسم کی رقمیں اپناکام کرنے لگیں ،ان خفیہ رقموں کے آثار پاکستان میں بھی نمودارہوئے اورکچھہ متعصب شیعہ مخالف گروہ جواسلام دشمنی میں پاکستان کے وجودکے بھی مخالف ہیں ان سے یہ نوحہ پڑھوایا گیا کہ غضب ہوگیااسلام آبادکوشیعہ اسٹیٹ یاایرانی انقلاب کاشعبہ بنایاجارہاہے جبکہ یہ دونوں باتیں مکتب تشیع کے ذہن میں بھی نہ تھیں اور نہ ہی دونوں کام ممکن تھے ،مگریہ رونارویاگیااگرگہرائی سے دیکھاجائے تواس ایک تیرسے کئی اقدار اسلامی کونشانہ بنایاگیا۔

جبکہ ایران سے پاکستانی عوام کی محبت ایک فطری عمل تھاکیونکہ پاکستانی عوام نے ہمیشہ اسلام اورتحریکوں کی حمایت کی ہے ، یہی وجہ ہے کہ پاکستان دنیاکاوہ واحدملک ہے جس نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سب سے پہلے اسلامی جمہوریہ ایران کوتسلیم کیا ۔

انقلاب اسلامی کے اثرات پوری دنیامیں بالعموم اورپاکستان میں بالخصوص رونماہوئے یہی وجہ تھی کہ پاکستان کی ہرگلی وکوچہ میں آوازسنائی دیتی رہی کہ پاکستان میں بھی خمینی جیسا مرد میدان آئے جوپاکستان میں بھی اسلامی حکومت قائم کرے۔

مکتب اہل بیت کے ماننے والوں کانظریہ ہے کہ اجتہادکادروازہ کھولاہواہے اوراسی نظریہ کے مطابق شیعہ حضرات اپنے اوپر ایک مجتہد کی تقلید لازم سمجھتے ہیں لہذا ایران میں ایک مجتہدجامع الشرائط انقلاب اسلامی کاقیام اوراس کے ساتھ عشق وعقیدت ایک فطری عمل تھا ۔

لہذا امریکی ڈالروں کے ذریعہ سے پاکستانی عوام کے اتفاق،اتحاداورمحبت بھرے ماحول کوخراب کرنے کے لئے سازشیں بنائی گئیں تاکہ مکتب تشیع کے لئے مشکلات پیداکرکے ان کی مقدس تحریک نفاذفقہ جعفریہ کے لئے رکاوٹیں کھڑی کی جائیں تودوسری طرف سے ایران کے اسلامی انقلاب کوڈراؤناخواب بناکرپیش کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ اہلسنت کی ایران کے لئے بڑھتی ہوئی محبت اور ہمدردیوں کوروکاجاسکے۔

امریکہ کااسلامی دشمنی میں منظورہونے والابجٹ جن امورکے لئے مختص کیاگیاوہ کچھ اس طرح سے تھے:

٭جن حضرات کو شیعوں سے اختلاف ہے ان کوشیعوں کے خلاف منظم کیاجائے اوران کومضبوط کرکے ان کے ہاتھوں شیعہ کافرہونا کا تصور پھیلایاجائے۔

٭جاہل اورکم پڑھے لکھے افرادکوجمع کرکے ان کی تقویت کریں جب ان کی تعدادمناسب ہوجائے توشیعوں کے خلاف مسلح جہاد شروع کرادیں۔

٭ایسے حضرات کی مالی مدد،حوصلہ افزائی جواپنی تحریروںکے ذریعے سے شیعوں یک عقائد اورمراکزکونشانہ بناسکیں ۔

٭شیعوں کے اندارانتشارڈالنے کے لئے عزاداری میں ایسے رسومات کااضافہ جوشیعوں کے عقائدکے ساتھ ٹکراؤ رکھتے ہوں۔

٭شیعوں کی طاقت کوکمزورکرنے کے لئے ان کے علماء اورمجتہدین کے خلاف فضا قائم کی جائے ۔

٭شیعہ علماء کرام ،اکابرین اور قائدین ملت کوبدنام کر کے ان کے اتحادکوکمزوربنایاجائے۔

یہی وجہ تھی کہ ہمارے خلاف محاذآرائی ہوئی ،پورے پاکستان کی فضاکوغلیظ اورگندے نعروں سے بھردیاگیا،پاکستان کی ہر در دیوار پر کافر کافر،شیعہ کافر۔کافر کافر،خمینی کافر۔کافر کافر،ساجد کافرکی چاکنگ کی گئی۔

قائدمفتی جعفرحسین کے چہرے کوکمزوراورسیاسی فضاسے دوردکھائے جانے کی تاحال کوشش جاری ہے کہ وہ ایک عالم دین تھے انہی قومی قیادت کے بجائے اپنے علمی ماحول میں رہناچاہئے تھا۔

قائدشہیدپرلسانیت کالیبل لگانے کی ناکام کوشش کی گئی کہ سیدعارف حسینی پٹھان ہیں!جب اس میدان میں کچھ نہ کرسکے توانہیں بدعقیدہ، وہابی ،یاعلی مدد اورعزاداری کامنکرپیش کرنے کے حربے استعمال کئے گئے۔

مگرقائدملت جعفریہ نے کے خلاف ہونے والی سازشیں انتہائی خطرناک تھی ،حکمرانوں سے محاذآرائی،فرقہ واریت کاسامنا اور اس کی آڑ میں پیدا ہونے والی دہشت گردی،داخلی قومی انتشار،تنظیم پربلاجوازپابندی عائدکی گئی ،ذاتیات اورکردار کشی کی حد تک مخالفت کی گئی۔ البتہ اس داخلی انتشارمیں صدر اسلام کی طرح اس وقت بھی فقط چندنام نہادروایتی لیڈروں کاعمل دخل تھا اوران کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

جبکہ قائدملت جعفریہ تمام علماء ،مدارس دینیہ ،علمی ودینی مراکزکی مشاورت اورعوام کی ہمراہی میں سیاسی میدان ،فلاحی میدان ، قانونی میدان میں بھرپورکرداراداکرتے ہوئے اپنے مکتب کی ترجمانی فرمارہے ہیں اوراسی مکتب کی ترجمانی کے جرم میں پس زندان گئے، مگراپنے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑااورزندان میں بیٹھ کربھی مکتب اورقوم کی ترجمانی کرتے رہے جب آپ سے کہاگیاکہ شیعہ مخالفین گروہ کے ساتھ صلح کرتے ہوئے ایک دوسرے پرعائدقتل کیس معاف کردیں توآپ نے فرمایا:

میرے ضمیر نے قابیل کو نہیں بخشا میں کیسے صلح کروں قتل کرنے والوں سے

جب آپ نے قرآنی دستوراوراسلامی فلسفے پرعمل کرتے ہوئے دینی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھے توکہاگیاکہ قاتلوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں مگرقائدکی زبان پرمسلسل یہی آوازتھی کہ :

حالات مختلف ہیں ذرا سوچ لو یہ بات دشمن تو چاہتے ہیں آپس میں لڑو

بہرحال آپ اپنی معاملہ فہمی،فہم وفراست اورسیرت آل محمد(ص) پرعمل کرتے ہوئے بڑے سے بڑے سے قومی امتحانات میں سرخرو ہوئے اوراب بھی ان سخت امتحانات کا سلسلہ، تسلسل کے ساتھ جاری ہے آپ ان تمام ترمسائل اور مشکلات کے باوجود پوری جانفشانی کے ساتھ اس قومی امانت اورقائدین کی میراث کی حفاظت فرمارہے ہیں۔

جب قائدشہیدکی شہادت کے بعد حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی نے قبائے قیادت زیب تن کی توقائدملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی نے تحریک جعفریہ کے دائرہ کووسیع کرتے ہوئے اورقوم کی اقتصادی اورمعیشتی خدمات کوبہتر بنانے کے لئے چندایک ذیلی شعبہ جات قائم کئے جن میں ملازمین کاشعبہ (اسلامک ایمپلائز) اساتذہ کاشعبہ (آئی ٹی او) نوجوانوں کاشعبہ(جعفریہ یوتھ) ،خواتین کی تنظیم، قانونی امدادکاشعبہ اورشعبہ تبلیغات اسلامی یہ تمام شعبہ جات بڑی آب وتاب کے ساتھ مصروف عمل رہے اوران شعبہ جات کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں بہت بڑے مثبت اورمفیدنتائج ابھرکر سامنے آئے اورشیعہ حضرات کے اقتصادی اورمعاشی مشکلات کے دروازے کھلے جس کی وجہ بہت سارے جوانوں کوروزگار پرلگایاگیا۔

١٩٩٩ء کے دورانیہ میں فقط شعبہ تبلیغات اسلامی کے زیراہتمام:

پنجاب کے مندرجہ ذیل شہروںکے مضافات

بہاولپورمیں ٨ نمازجمعہ اور١٦قرآن سنٹر۔ڈیرہ غازی خان میں ١٤ نمازجمعہ اور٣٢قرآن سنٹر۔سرگودھامیں ٢٤ نمازجمعہ اور١١ قرآن سنٹر۔لاہورمیں ١٠نمازجمعہ اور٤ قرآن سنٹر۔راولپنڈی میں ٥ نمازجمعہ اور٥قرآن سنٹر۔ملتان میں ١٢ نمازجمعہ اور٥قرآن سنٹرقائم کئے گئے۔

سرحدکے مندرجہ ذیل شہروںکے مضافات

ڈیرہ اسماعیل خان میں ٧نمازجمعہ اور٤٠ قرآن سنٹر۔کوہاٹ میں ٢نمازجمعہ اور٤٠ قرآن سنٹرقائم کئے گئے۔

سندھ کے مندرجہ ذیل شہروںکے مضافات

میرپورخاص میں ٧نمازجمعہ اور١٢ قرآن سنٹر۔حیدرآباد میں١٨ نمازجمعہ اور١٧ قرآن سنٹر۔نوابشاہ میں....نمازجمعہ اور٢٥ قرآن سنٹر۔ لارکانہ میں ٨نمازجمعہ اور١٨قرآن سنٹرقائم کئے گئے۔

ماہ مبارک رمضان کی تبلیغ کی مناسبت سے پورے پاکستان کے مختلف علائقوں میں مبلغین اسلام روانہ کئے گئے ۔

آخرین پست ها

بزدلانہ اقدامات سے نہ تو زائرین کی مقدس ہستیوں کے حوالے سے عقیدت و احترام میں کمی لائی جاسکتی ہے اور نہ ہی ان کے شوق زیارت کودبایا جاسکتا ہے۔ ..........یکشنبه 1 تیر 1393

شیعہ علماء کونسل پنجاب کا سانحہ ماڈل ٹاون لاہور میں جانبحق ہونیوالے عوامی تحریک پاکستان کے کارکنان کی رسم قل خوانی میں شرکت اور خطاب ..........یکشنبه 1 تیر 1393

آزادی صحافت کے حامی ہیں، حکومت مثبت تنقید برداشت کرے، صحافی برادری بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق مرتب کرے، شیعہ علماء کونسل ..........یکشنبه 1 تیر 1393

ہمسائیہ ملک سے تعلقات بہتر ہونے چاہئیں مگر مسئلہ کشمیر کے حل کو اولیت دی جائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

کربلا فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام ہے ; قائد ملت جعفریہ پاکستان ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

علامہ محمد رمضان توقیرنے حضرت آیت اللہ سید محمد باقر شیرازی کی وفات پران کے اہل خانہ سے فاتحہ خوانی کی اورقائد ملت جعفریہ پاکستان کا تعزیتی پیغام پہنچایا ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

شیعہ علماءکونسل صوبہ خیبر پختون خواہ کے صوبائی صدرعلامہ محمد رمضان توقیرنے دفترقائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ مشہد کا دورہ کیا ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

جعفریہ یوتھ کے نوجوان مستقبل کی امید اور انقلاب کے لیے اولین معاون ثابت ہوں گے‘ علامہ ساجد نقوی ..........شنبه 3 خرداد 1393

ملک سے دہشت گردوں کا خاتمہ اورامن وامان بحال کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،قائد ملت جعفریہ پاکستان ..........شنبه 3 خرداد 1393

قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کا دورہ نوابشاہ سندھ، مومنین کا شاندار استقبال ..........شنبه 3 خرداد 1393

حراموش میں اسلامی تحریک پاکستان وشیعہ علماء کونسل کے سیاسی سیل کا اہم اجلاس ..........شنبه 3 خرداد 1393

شیعہ علماء کونسل گلگت کا اہم ڈویژنل تنظیمی اجلاس،علامہ شیخ سجاد حسین قاسمی کونیا صدرمنتخب کرلیا گیا ..........شنبه 3 خرداد 1393

اسلامی تحریک پاکستان و شیعہ علماء کونسل کے سیاسی سیل کا دورہ نگرل، انجمن حیدریہ نگرل کا اسلامی تحریک پاکستان پرمکمل اعتماد کا اظہار ..........شنبه 3 خرداد 1393

شیعہ علماء کونسل و اسلامی تحریک پاکستان کے سیاسی سیل کے وفد کی امام جمعہ والجماعت جامع مسجد گلگت آغا سید راحت حسین الحسینی سےخصوصی ملاقات ..........شنبه 3 خرداد 1393

کیا آپ کو معلوم ہے..........یکشنبه 14 اردیبهشت 1393

همه پستها