تبلیغات
شیعه علماء کونسل پاکستان - مکتب کے محافظ

اتحادبین المسلمین اسلام کی حکمت اورآج کے دورکی اہم ضرورت ہے یہی سبب ہے کہ قرآن وسنت نے ہمیشہ اسے اہمیت کی نگاہ سے دیکھاہے اورہمارے آئمہ معصومین ،علماء ومجتہدین کی سیرت بھی یہی رہی ہے اسی اہمیت کے پیش نظر اتحادبین المسلمین ہمارے مرکزی پلیٹ فارم کا منشورا ور ہمارے قائدین بالخصوص قائدشہیدکی میراث رہی ہے لہذا قائد ملت جعفریہ ہمیشہ اتحادبین المسلمین کے داعی اور اسلام کی سربلندی کے لئے ہرقسم کے سیاسی مذہبی اتحاد میں پیش قدم رہے ہیں یہی وجہ تھی کہ تنظیم تحریک نفاذفقہ جعفریہ کانام بدل کرتحریک جعفریہ رکھاتاکہ ملک کی مختلف سیاسی مذہبی تنظیموں سے بہتراندازمیں افہام وتفہیم ہوسکے مگرجہاں اتحادکے داعی رہے ہیں وہاںاپنے مکتب
کے اصولوںکے بھی پابندرہے ہیںاورکبھی بھی اپنے مذہب اورمکتب پرکوئی آنچ آنے نہ دی ایک مرتبہ جب مختلف مکاتب فکرکی موجودگی میں کسی اہم اسلامی نکتے پرگفتگومقصودتھی اورقائدملت جعفریہ بھی اپنے مکتب کی نمایندگی میں وہاںموجودتھے اپنے مکتب کے تحفظات کے پیش نظر قائدملت جعفریہ نے شیعہ مذہب کی تبیین اورکھل کرواضح وعیاں ذکرکرنے کامطالبہ کیاتوایک شیعہ مخالف اورمتعصب گروہ کے سرکردہ نمائندہ نے کہاکہ ہم شیعوں کومسلمان ہی نہیں سمجھتے کہ ان کایہاں ذکر کیاجائے !!!  ان کے انہی الفاظ کے ساتھ قائدملت کے الفاظ تھے کہ لعنت ہو تم پراورتمہاری اس کمیٹی پران الفاظ کے قائدملت جعفریہ واکاؤٹ کرتے ہوئے باہرنکل آئے ۔
اسی طرح ایک مرتبہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے عروج کے دنوں جب پورے پاکستان میں شیعو ں کاقتل عام ہورہا تھا توہمارے ہی ایک بزرگ نے قائدملت کومشورہ دیتے ہوئے عرض کیاکہ اہل سنت کے علماء سے تحریرلی جائے کہ شیعہ بھی مسلمان ہیں اورانکاجان ومال اسلامی نکتے نگاہ سے محترم ہے! قائدملت نے ناراضگی کااظہارکرتے ہوئے فرمایاکہ خبردار یہ بات آج کی ہے پھرکبھی نہ کرنا۔ قرآن میرے جدامجدپرنازل ہواہے اسلام کے بانی ومحافظ میرے اجدادہی تھے، اسلام نے ہمارے آباء واجدادکے گھر میں پرورش پائی ہے اورآج میں جاکراپنے مسلمان ہونے کی سندعلماء اہل سنت سے حاصل کروں(ھیہات مناالذلہ) اورجہاں ضرورت پڑی سینہ تان کربرملاآوازمیں کہاکہ میں نہیں مانتا................... انکی خلافت کو... احترام متقابل اپنی جگہ محفوظ مگرمذہبی تشخص اوراصولوں پر کبھی سودا بازی نہیں کی جاسکتی۔
قائدملت جعفریہ آئمہ ہدیٰ کی عزاداری اورمجالس عزاکوایک خاص اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں آپ نے عزاداری کی کے لئے فرمایا کہ'' عزاداری کسی دورمیں مستحب تھی مگرآج کے دورمیں واجب ہے ''آپ نے عزداری کے خلاف کسی قسم کی محدودیت اورپابندی  کوقبول نہیں کیاخواہ وہ محدودیت اورپابندی فرقہ وارنہ تعصب کی بنیادپر ہویاحکومتی اداروں کی طرف سے ہو ،اس سلسلے میں قائدکاپہلا اقدام ڈیرہ اسماعیل خان میں روٹ کامسئلہ تھاجسے حکومت سے منوایاکہ عزاداری ہمارے مذہبی اورشہری آزادی کا مسئلہ ہے پاکستان کے قانون کے مطابق مجھے عزاداری کاحق حاصل ہے لہذاجہاں اورجب چاہوں عزادری کرسکتاہوں اوراس کے لئے کسی قسم کے پرمنٹ کی ضرورت نہیں۔
قائدملت جعفریہ کے اسی ٹھوس اوراٹل موقف کی وجہ سے آج ہمارے لئے قانونی ،آئینی اورعوامی سطح پر آئمہ ہدیٰ کی عزاداری بالخصوص عزاداری سیدالشہداء کاانعقادآسان ہوا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اگرکہیں پاکستان کے کسی کونے میں مکتب اہل بیت کے ماننے والوں کو عزادری میں رکاوٹ اوردشواری پیش آتی ہے تواس مسئلے کواہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے سب سے پہلے اس کی قانونی چارہ جوئی کرتے ہیںجس طرح کہ سرکارقلندرکی دربارسہون سندھ میں ہوااور عزاداری امام مظلوم پرپابندی عائدکردی گئی توآپ خودچل کرگئے اورماتمی دستے میں کھڑے ہوکرماتم داری کی نتیجہ میں قلندرکی دربار میں ہمیشہ کے ماتمی دستہ کاسلسلہ شروع ہواجوکبھی نہ رک سکے گا ہرسال کی طرح اس سال بھی محرم وصفرمیں بعض مقامات پرماتمداری اورمجالس عزامیں رکاوٹ توآپ کی ہدایات پروہ تمام ترمسائل حل ہوئے۔
قائدملت جعفریہ نہ صرف عزادری کے مسائل کوہی خاص اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ تمام تران شعائراسلامی اورمذہب و مکتب کی بنیادجس پرمذہب کاتشخص قائم ہے اسکے بھی محافظ ومدافع رہے ہیں جس طرح کہ مذہب اہل بیت کے ماننے والے آذان میں مولیٰ الموحدین امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب کی ولایت کے فقرات کوایک خاص اندازکے لب ولہجے اورمولیٰ کے فضائل پرمشتمل جملات .......اورخلیفتہ بلافصل کے ساتھ ادا کرتے ہیں، اپنے آپ کوروشن فکر سمجھنے والے مختلف قسم کے لوگوں یااس سے بڑھ کر پاکستان میں موجودشیعہ مخالف متعصب گروہ کی طرف سے اعتراض ہواکہ شیعہ حضرات اپنی آذان میں تبدیلی لائیں اورایران وعراق میں دی جانے والی آذان پرہی اکتفاء کریں کہ جس میں فقط علیاًولی اللہ کہا جاتاہے توقائدملت نے سختی سے ان گروہوں کے جواب میں فرمایاکہ ''آذان میں امیرالمومنین علی علیہ السلام کے متعلق دی جانے والی گواہی میں نہ ایک حرف کم ہوسکتاہے اورنہ زیادہ ۔اورجس مقام ومسجدکی اسپیکروں سے آذاں نشرہوتی ہے اس پرکسی قسم کی پابندی اور محدودیت غیرقابل تحمل اوربرداشت ہے'' یہ قائدملت جعفریہ هی کی دوراندیشی اور تدبیرکانتیجہ ہے کہ پاکستان کی سرزمیں پرعلیاًولی اللہ کی آوازبلند ہے اورکسی میں جرات نہیں کہ اسے محدودکرسکے۔
اس طرح سے جہاں قائدملت جعفریہ نے اتحادبین المسلمین کواجاگرکیاہے وہاں اپنے مکتب ومذہب کی بھی محافظت کی ہے اور ہر اس سازش کامقابلہ کیاہے جس سے مذہب ومکتب کے تشخص کوخطرہ لاحق ہوسکتاتھا۔
اس سلسلے میں علامہ شیخ محسن علی نجفی (زیدعزہ الشریف) کا کہناہے کہ ''قائدملت جعفریہ قوم کی نمائندگی میں حکومتی اداروں،سیاسی ومذہبی محفلوں اورشیعہ دشمن عناصرکے مقابلے میں اس وقت اکیلے سر یک وتنہا جھاد کرتے رہے ہیں جب دشمن کی طرف سے ہمارے خلاف ایک ہی وقت میں دوسازشیں ہورہی تھیں جن میں سے ایک محسوس اندازسے تھی وہ یہ کہ ہماراقتل عام ہورہاتھااورپاکستان کے جس گوشے وکنارمیں کوئی جنازہ گراتواس کے پس پردہ مسائل کے مداوا کے لئے سب سے پہلے سیدساجدعلی نقوی پہنچے یہ ایک کھلی اورظاہری سازش تھے جسے ہرایک دیکھ رہاتھا مگردوسری سازش اورشیعیت خلاف ہونے والے منصوبے غیرمحسوس اندازسے تھے شیعوں کوایک دیوارکے ساتھ لا کھڑا کرنے کے منصوبے بنائے جارہے تھے ان دو سازشوں کا مقابلہ تھا اورمحسوس اندازسے ہونے والی سازش کے مقابلے غیرمحسوس سازش بہت ہی خطرناک ہواکرتی ہے کسی کوعلم نہیںکہ ہمارے خلاف کیا سازشیں تھیں ہم نے یہ توسن لیاکہ فلان مقام پر میٹنگ اورمذکرات ہوئے مگران میں شیعیت کے خلاف کیاسازش تھی اورکس طرح اس سید نے ان کامقابلہ کرتے ہوئے دفاع کیااوراپنے مکتب کی حفاظت کی اس کاکسی کوعلم نہیں''۔
کیاہماری قوم وہ وقت بھول سکتے ہے جب شیعہ دشمن عناصرنے قائدملت جعفریہ کی اتحادی کوششوں اورصبر،تحمل ،برباری اور تیزبین نگاہوں سے خوف زدہ ہوکر((شریعت بل کے بعدجسے قائدملت جعفریہ مختلف مکاتب فکرکے افہام وتفہیم کے ساتھ حل کیاتھا))ہمارے خلاف ناموس صحابہ بل کے عنوان سے ایک نئی سازش تیارکی جوکہ غلیظ ،گندے اورتکفیری نعروں سے بھی کئی گنازیادہ خطرناک تھی اس بل کے پاس ہونے کے بعدملک میں ہمارے اوپرکیاگذرتی اورکس طرح سے پوراملک فرقہ وارانہ جنگ کے ساتھ ساتھ خانہ جنگی میں تبدیل ہوجاتااورجس کے نتیجہ میں ملک وملت کانقصان ہوتا ۔
یہ سب کچھ توبعدکامرحلہ تھامگراس سے پہلے اس کی بل روشنی میں ہم پاکستان میں تاریخ اسلام کوبیاں نہیں کرسکتے تھے ۔آئمہ معصومین بالخصوص مولائے کائنات حضرت علی( علیہ السلام) کے فضائل کوبیان کرنا ہمارے لئے مشکل بن جاتا۔ ہم زہرہ مرضیہ حضرت فاطمہ زہرا کی تاریخ اور مصائب کو بیاں نہیں کر سکتے تھے۔ یہاں تک کہ ہمارے لئے اپنا مذہب ثابت کرنابھی خلاف قانون بن جاتااس لئے کہ علم و تاریخ کے مطابق ان مسائل کوچھیڑنے سے ہم بالاخر اس چیزکاذکرکرنے پرمجبورہوتے جو اس بل کی روشنی خلاف قانون قرارپاتا ۔     ناموس صحابہ کاعنوان استعمال کرکے پاکستانی معاشرے اور مسلمانوں کے خلاف جوفتنہ کھڑاکیاجارہاتھااس کے نتیجہ میں پاکستان کی شیعیت کے بقاکوبھی سنگین خطرہ لاحق تھا اس کامقابلہ کرتے ہوئے قائدملت جعفریہ نے اپنی سنجیدگی،معاملہ فہمی اور دوراندیشی سے اس فتنہ کوہمیشہ کے لئے دفن کروا دیا ۔
قائدملت جعفریہ نے اپنے مکتب وملت کاتحفظ جاری رکھتے ہوئے صوبہ پنجاب میں حکومت کی طرف سے قائم کردہ ایک باادارہ ''متحدہ علماء بورڈ''میں اپنافعال کرداراداکیااوراس میدان میں ملت کی نمائندگی کے لئے اس وقت کے تحریک جعفریہ کے مرکزی نائب صدر حضرت علامہ سیدمحمد تقی نقوی ، مر کزی سیکریٹری جنرل علامہ سیدافتخارحسین نقوی ،حضرت علامہ کرامت علی عمرانی اورعلامہ ملک آفتاب حسین جوادی پر ذمہ داری عائد کی۔ جس کے نتیجہ میں مخالف فریق کے اکابرین کی ٤٠سے زائدکتب ضبط کراکے ثابت کیاکہ مسلمانوں میں انتشار کا اصل مسبب کون ہے اس طرح سے تحریک جعفریہ اورقائدملت کی واضح پالیسی کی وجہ سے علماء بورڈمیں موجودشیعہ مخالف گروہ اس میدان کو چھوڑ کربھاگ نکلا اورشیعہ قوم کوجاودانی فتح نصیب ہوئی ۔
استعماری دشمن نے جب ہمارے قومی ،اجتماعی اورسیاسی پلیٹ فارم تحریک جعفریہ کوفرقہ وارانہ جماعتوں میں لاکھڑاکرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ہماری قیادت کوقانونی میدان میں چیلنج کیاتوقائدملت جعفریہ نے اس گھناؤنی سازش کے سلسلہ میں ارباب اقتدار کو متوجہ کرنے کے لئے یادداشتیں بجھوائیں۔صدرپاکستان ،وزیراعظم ،مسلح افواج کے سربراہ اورعدالت عالیہ کے چیف جسٹس صاحبان کو اپنے فرائض منصبی اداکرنے کی کے لئے ضروری تاکیدکی اوراس طرح سے قائدملت جعفریہ نے عدالت عالیہ کومجبورکیاکہ وہ اس دہشت گردی کے طوفان کے اصل اسباب ومحرکات کاجائزہ لے اوراپنی رائے یافیصلہ صادرفرمائے ۔اس ضرورت کے پیش نظرچیف جسٹس آف پاکستان نے ملت جعفریہ اورمکتب آل محمد کی ترجمانی کے لئے تحریک جعفریہ پاکستان کوسپریم کورٹ میں دعوت دی ۔
قائدملت جعفریہ نے اس ذمہ داری کونبھانے کے لئے حضرت علامہ محمدتقی نقوی،علامہ افتخارحسین نقوی ،علامہ ملک اعجازحسین نجفی ، علامہ حافظ کاظم رضا، عالیجنابان ایم ایچ حسنی صاحب اورسیدثناء الحق ترمذی ایڈوکیٹ پر مشتمل ایک وفدروانہ کیااس وفدنے اپنے قائدکی نمائندگی اورقوم کی ترجمانی کے لئے چیف جسٹس کی خدمت میں دومرتبہ تقریباً آٹھ گھنٹے ،دہشت گردی کے موضوع پر ملکی وغیرملکی اسباب ، محرکات،ان کاحل،پاکستان میں سپاہ صحابہ کی دہشت گردی پرمبنی کاروئیوں کی تفصیل،ان کے گرفتارشدگان کے اعترافی بیان،،ان کے ملک اوراسلام دشمنی پرمبنی خطابات واخباری تراشے،ان کی وہ کتب جن میں اللہ تعالیٰ ،رسول اکرم،اہل بیت پیغمبر،ازواج رسول،اصحاب رسول اورقرآن کریم کی توہین کی گئی تھی۔ان کے دہشت گردی کے حوالے سے ویڈیواعترافی بیانات کی کیسٹیں، جہادکشمیر اور جہاد افغانستان کی آڑ میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے اعترافات اوردیگرہزاروں کتابچے،پمفلٹ،رسائل ،اشتہارات، آڈیو کیسٹیں اور دیگر موادپیش کیاجس کے نتیجہ میں مذہب جعفریہ کی صداقت کابول بالاہواجورہتی دنیاتک یادرہے گا۔
موجودہ دورمیں جب ایک عام انسان بھی علمی اندازمیں گفتگوپسندکرتے ہوئے دلائل کاطالب ہوتاہے تو اس ضرورت کے پیش نظراورقائدملت جعفریہ کے حکم پرتحریک جعفریہ کی طرف سے ادارہ مرکزمطالعات اسلامی کی بنیادڈالی گئی اس ادارے نے قومی خدمات انجام دیتے ہوئے متعدد کتابچوں کے علاوہ ایک تاریخی نوعیت کی منفرداورپاکستان کی تاریخ میں اپنے اندازکی پہلی کتاب ''تحقیقی دستاویز'' شائع کی اس تحقیقی دستاویزنے دشمنان تشیع کے دانت کھٹے کردئے اس لئے کہ اس دستاویزمیں ان ہی کے اکابرین کی کتب کے حوالے جات اخذ کرکے مکتب تشیع کی سربلندی کاسامان فراہم کیاگیاہے اوریہ کتاب صدرپاکستان سے لے کرانتظامیہ کے اعلیٰ افسران تک پہچائی جا چکی ہے۔
دشمن جب غلیظ وتکفیری نعروں ،مذاکراتی ٹیبل ٹاک اورقانونی میدانوں میں مفلوج ہوکررہ گیاتواس نے علمی وفکری دلائل اوربحث کونظراندازکرتے ہوئے اپنے ہاتھ میں اسلحہ لے لیااورشیعیان حیدرکرارکابے دریغ خون بہایاآئے دن شیعہ مساجد امام بارگاہ اوردینی مراکز کودہشت گردی کانشانہ بنایاگیاجس کے نتیجہ میں ملک میں دہشت گردی کاآغاز ہوا۔جس کے نتیجہ میں شیعہ علماء ،خطباء،ذاکرین، بیوروکریٹ، راہنما،افسران،انجرنیرئز، ،وکلاء ، دانشمنداور ڈاکٹرز حضرات کونشانہ بنایاگیاصرف کراچی کے اندر ١٩٨٥ ء سے ٢٠٠٠ء تک کے دورانیہ میں چودہ سو(١٤٠٠) شہداکے جنازے اٹھائے گئے ملک بھر میں تحریک کے عام کارکن سے لے کراہم عہدیداران کوفقط محب علی اور تحریک سے وابستگی کے جرم میں شہیدکیاگیااس وقت تک تحریک کے تین مرکزی سیکریٹری جنرل کو شہید کیا گیا پاکستان بھرمیں اس کھلی دہشت گردی کی وجہ سے کئی گھرویران ہوئے، خاندان اجڑے، خواتین بیوہ  ہوئیںاوربچے یتیم ہوئے۔
ہماری قوم کے خلاف نہ رکنے والاقتل کاسلسلہ جو قائدشہیدکے زمانے سے ہی شروع ہواتھااورملکی وغیرملکی قوتوں کے پس پشت ہونے کی وجہ سے انہیں مزید تقویت ملی ان کی اس مکروہ کاروائی میں روزبہ روزشدت آتی رہی جواس ملک وملت کے لئے زہرقاتل تھا ۔
مگر قائدملت جعفریہ نے اپنی تیزبین نگاہوں سے ملک وملت کے مفادمیں صبرحسینی اورحکمت حسنی سے کام لیتے ہوئے ہمیشہ اپنے مثبت اورقانونی اقدامات جاری رکھے جوآج تک جاری ہیں۔اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ سربراہی ملاقاتیں،تحریری روابط، یاد داشتیں، وفودکی ملاقاتیں اورخطوط وغیرہ کے ذریعے حکومت ،عدلیہ اورپاک فوج کوباورکرایا جاتا رہا کہ اس خطرناک سلسلے کوروکاجائے ۔ آپ کی ان کوششوں سے دشمن مزیدبدنام ہوااورپاکستان کے تمام طبقات میں ہمیں ہی سربلندی نصیب ہوئی۔
شیعہ علماء کونسل کے تعاون اورقائدملت  جعفریہ کے ٹائٹل سے آج بھی شعائراسلامی اور مکتب اہل بیت کے تمام تراساسی وبنیادی حقوق کی حفاظت کی جارہی ہے اورقائدملت جعفریہ اپنی قائدانہ صلاحیتوںکے ساتھ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرمقابلے کرتے ہوئے اپنے قومی و مذہبی حقوق کادفاع کررہے ہیں۔

آخرین پست ها

بزدلانہ اقدامات سے نہ تو زائرین کی مقدس ہستیوں کے حوالے سے عقیدت و احترام میں کمی لائی جاسکتی ہے اور نہ ہی ان کے شوق زیارت کودبایا جاسکتا ہے۔ ..........یکشنبه 1 تیر 1393

شیعہ علماء کونسل پنجاب کا سانحہ ماڈل ٹاون لاہور میں جانبحق ہونیوالے عوامی تحریک پاکستان کے کارکنان کی رسم قل خوانی میں شرکت اور خطاب ..........یکشنبه 1 تیر 1393

آزادی صحافت کے حامی ہیں، حکومت مثبت تنقید برداشت کرے، صحافی برادری بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق مرتب کرے، شیعہ علماء کونسل ..........یکشنبه 1 تیر 1393

ہمسائیہ ملک سے تعلقات بہتر ہونے چاہئیں مگر مسئلہ کشمیر کے حل کو اولیت دی جائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

کربلا فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام ہے ; قائد ملت جعفریہ پاکستان ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

علامہ محمد رمضان توقیرنے حضرت آیت اللہ سید محمد باقر شیرازی کی وفات پران کے اہل خانہ سے فاتحہ خوانی کی اورقائد ملت جعفریہ پاکستان کا تعزیتی پیغام پہنچایا ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

شیعہ علماءکونسل صوبہ خیبر پختون خواہ کے صوبائی صدرعلامہ محمد رمضان توقیرنے دفترقائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ مشہد کا دورہ کیا ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

جعفریہ یوتھ کے نوجوان مستقبل کی امید اور انقلاب کے لیے اولین معاون ثابت ہوں گے‘ علامہ ساجد نقوی ..........شنبه 3 خرداد 1393

ملک سے دہشت گردوں کا خاتمہ اورامن وامان بحال کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،قائد ملت جعفریہ پاکستان ..........شنبه 3 خرداد 1393

قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کا دورہ نوابشاہ سندھ، مومنین کا شاندار استقبال ..........شنبه 3 خرداد 1393

حراموش میں اسلامی تحریک پاکستان وشیعہ علماء کونسل کے سیاسی سیل کا اہم اجلاس ..........شنبه 3 خرداد 1393

شیعہ علماء کونسل گلگت کا اہم ڈویژنل تنظیمی اجلاس،علامہ شیخ سجاد حسین قاسمی کونیا صدرمنتخب کرلیا گیا ..........شنبه 3 خرداد 1393

اسلامی تحریک پاکستان و شیعہ علماء کونسل کے سیاسی سیل کا دورہ نگرل، انجمن حیدریہ نگرل کا اسلامی تحریک پاکستان پرمکمل اعتماد کا اظہار ..........شنبه 3 خرداد 1393

شیعہ علماء کونسل و اسلامی تحریک پاکستان کے سیاسی سیل کے وفد کی امام جمعہ والجماعت جامع مسجد گلگت آغا سید راحت حسین الحسینی سےخصوصی ملاقات ..........شنبه 3 خرداد 1393

کیا آپ کو معلوم ہے..........یکشنبه 14 اردیبهشت 1393

همه پستها