تبلیغات
شیعه علماء کونسل پاکستان - تحفظ حقوق تشیع میں قومی قیادت کا کردار

عزاداری سید الشہداء

آئمہ معصومین علیہم السلام نے اسلام کی بقاء ، نشرواشاعت اور احیاء کیلئے عزاداری سید الشہداء علیہم السلام کی بنیاد رکھی تاکہ اسلام دشمن قوتوں کی اسلام کے خلاف یلغار کو روکا جاسکے اور ایک ایسا مستقل، منفرد اور محکم نظام قائم کردیا جائے جو ازل تا ابد اسلامی عقائد، نظریات اور معارف کا تحفظ کرسکے اسی لئے عزاداری سید الشہداء ملت تشیع کیلئے جہاں ایک عبادی پہلو کی حیثیت رکھتا ہے وہاں اس کے اجتماعی اور سیاسی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اسی لئے ہر معصوم نے اپنے دور میں عزاداری سید الشہداء کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کیا ۔اسکے علاوہ آئمہ معصومین علیہم السلام نے نہ صرف اس کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کیا بلکہ اس سلسلے میں ایسے آثار چھوڑے جس سے عزاداری سید الشہداء کو بہت زیادہ تقویت حاصل ہوتی ہے۔

اسی لئے عزاداری سید الشہداء ایک ایسا سرمایہ ہے جو مظلوم کو طاقتور اور ظالم کو سرنگوں کرتا ہے مظلوم کو باعزت اور ظالم کے چہروں سے نقابیں اتارتا ہے یعنی کہ مظلوم کیلئے کامیابی کی نوید اور ظالم کیلئے ہلاکت ، نابودی اور شکست کا سبب۔

اسی لئے رہبر کبیرانقلاب حضرت امام خمینی قدس سرہ نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کا راز، عزاداری سید الشہداء کو قرار دیا بلکہ واضح کیا کہ اگرعزاداری سید الشہداء کا عنصر شامل حال نہ ہوتا تو انقلاب اسلامی کا برپا ہونا محال تھا اسی لئے اسلامی انقلاب کی بنیادوں میں عزاداری سیدالشہداء کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور جب عزاداری سید الشہداء برپا ہوتی رہے گی انقلاب اسلامی کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکے گا۔

اسی لئے دنیاکے مختلف خطوں کی طرح مملکت خداداد پاکستان میں بھی استعماری قوتوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے عزاداری سید الشہداء کے اثرات کو کم کرنے اور آئمہ اطہار علیہم السلام کے نظریات ، افکار او ر معارف سے عوام کو روشناس ہونے سے روکنے کیلئے عزاداری پر مختلف عنوانات ، حوالوں اور مناسبتوں سے پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جاتی رہی تھی امن و امان ، کبھی فرقہ واریت کے ظاہری روک تھام اور کبھی دہشت گردی کا بہانہ بناکر اس پر قدغن لگانے کی کوشش کی جاتی رہی۔

جب کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عزاداری سید الشہداء کے انعقاد سے نہ امن و امان میں خلل ہوتا ہے نہ فرقہ واریت جنم لیتی ہے اور نہ دہشت گردی کا مسئلہ ہے بلکہ مراسم عزاداری میں دیگر مکاتب فکر و مسالک کے افراد بھی شرکت کرتے ہیں ۔

جبکہ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ نمائندہ ولی امر مسلمین و قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی (حفظ اللہ تعالیٰ) نے عرصہ دراز سے ملک کے ریاستی اداروں پر واضح کردیا ہے کہ ہمیں سنگینوں کے سائے میں عزاداری ناقابل قبول ہے کیونکہ ملکی ادارے رکاؤٹیں کھڑی کرکے عزاداری کے مراسم میں دیگر مسلمانوں کوشرکت سے روکنا چاہتے ہیں تاکہ عزاداری کے اثرات مرتب نہ ہوسکیںاور دوسری طرف رکاوٹیں کھڑی کرکے خوف و دہشت کی فضا کو قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ عزاداری کے جلوسوں پر پابندی کی راہ ہموار ہوجائے ، اسلئے ہم کہتے ہیں کہ عزاداری کے جلوسوں اور مراسم سے رکاوٹیں ہٹادی جائیں ۔ہمارے لئے سعادت ہے کہ ہم عزاداری حسین ابن علی علیہم السلام میں شہادت کے جام کو نوش کریں۔

جب کہ فرقہ واریت ، دہشت گردی کی بنیاد فوجی آمریت کے دور میں رکھی گئی فقط اپنے مقاصد کو انجام تک پہنچانے کیلئے ان عوامل و عنوانات کو استعما ل کیا جاتا ہے اسی لئے مختلف مواقع پر حکومتی اداروں نے عزاداری کے مقابل رکاوٹیں کھڑی کیں او ر اسے روکنے کے ناقابل عمل اور غیرمہذبانہ عمل کو انجام دیا مگر علماء و قائدین کی بصیرت نے اسے ناکام بنادیا۔

١٩٨٩ میں حکومتی اداروں نے عزاداری سید الشہداء پر پابندی کا باقاعدہ آغاز کردیا اور قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی (قدس سرہ) کے دور قیادت میں ڈیرہ اسماعیل خان میں عزاداری کے جلوس کو امن و امان او ر محل و وقوع کا مسئلہ بناکر پابندی کا فیصلہ کیا گیا اسی دوران قائد شہید کو شہید کردیا گیا اور ان کی شہادت کے بعد علامہ سید ساجد علی نقوی کو قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی قائد ملت نے اپنی بصیرت و دانش کے ذریعہ فیصلہ کیا یہ عزاداری کے جلوسوں ، مراسم اور اجتماعات پر پابندی ناقابل قبول ہے بلکہ عزاداری پر پابند ی غیر آئینی اقدام ہے ملک کا آئین و قانون ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم جہاں چاہیں عزاداری برپا کرسکتے ہیں اس لئے عزاداری گذشتہ ادوار میں مستحب تھی تو آج کے اس دور میں واجب ہے۔

اس کے بعد اس لائحہ عمل کے نتیجے میں حکومتی پابندیوں کو دورکردیا گیا اور ڈی آئی خان کے جلوس کو نکالنے کا اعلان ہوا جس کے نتیجہ میں دور دراز سے عوام الناس کی کثیر تعداد اس میں شرکت کیلئے روانہ ہوگئی اور اس جلوس عزاء کو شان و شوکت کے ساتھ نکالا گیا مگر حکومتی اداروں نے اس نازک مرحلہ میں بھی اپنی بزدلانہ کاروائی کو انجام دیا اور عزادارں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میںکافی مومنین شہید ہوگئے مگر کسی شہید نے عزاداری پر پابند ی قبول نہ کی اور علم ابو الفضل العباس کو سرنگوں نہیں ہونے دیا بلکہ دیگر افراد کو اپنے کردار سے یہ درس دیا کہ ہم عزداری کی راہ میں جان دینا سعادت سمجھتے ہیں اوراس طرح سے ان شہادتوں کے باوجود جلوس عزاداری اپنی منزل طے کرتا گیا اور حکومتی پابندی کو روندتا چلاگیا۔

١٩٩٨ میں سہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر عرصہ قدیم سے عزاداری سید الشہداء کا انعقاد ہوتا رہاہے مگر ایک سازش کے تحت حکومتی اداروں کی طرف سے عزاداری پر پابندی لگادی گئی اس وقت علامہ حسن ترابی شہید اور دیگر تنظیمی برادران کی اطلاع پر،اس سازش کا بروقت ادراک کرتے ہوئے قائد ملت نے سہون شریف کا ہنگامی دورہ کیا اور درگاہ شریف میں عزداری کو برپاکرکے عملی طور پر اس پابندی کو غیر موثر کردیا اس کے بعد تحریک جعفریہ پاکستان صوبہ سند ھ کی طرف سے ٢٠ اکتوبر ١٩٩٨ کو سہون شریف میں عزاداری کانفرنس کا انعقاد کیاگیا جس میں سند ھ بھر کے علماء ،ذاکرین ، نوحہ خوانوں نے شرکت کی اور خصوصی خطاب قائد ملت نے کیا اور آئندہ عزاداری پر پابندی جیسے اقدامات سے حکومت کو دور رہنے کا مشورہ دیا، یہ چند ایک مثالیں ہیں جبکہ جہاں کہیں بھی عزداری پر پابندی یا اسکے خلاف قانون سازی کا مسئلہ پیش آیا اس کا دفاع کیا گیا ۔

ان ناکامیوں کے بعد حکومتی اداروں نے قانون سازی کے ذریعہ عزاداری پر پابندی یا محدود کرنے کی کوشش کی مگر قائد ملت نے مدبرانہ اور قائدانہ صلاحیت کے ذریعہ سیاسی رابطوں او ر مذہبی جماعتوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ذریعہ حکومتی اداروں کو قانون سازی کے میدان میں بھی ناکام کیا۔

فوجی آمر اور علمائے امامیہ

١٩٧٩ میں اس وقت کے آمر اور ڈکٹیٹر نے ملت تشیع کی آزادیوں کو سلب کرنے کیلئے ملک میں فقہ حنفیہ کے نفاد کا اعلان کیا جبکہ اس کے علم میں تھا کہ اس ملک میں مکتب تشیع کے ماننے والوں کی تعداد کسی طور کم نہیں مگر ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت ایسا اقدام کیا گیا، اس حکومتی ظالمانہ اقدام کے خلاف علمائے امامیہ پاکستان نے ایک عوامی کال دی جس کی قیادت قائد مرحوم علامہ مفتی جعفرحسین مرحوم کررہے تھے اس کے علاوہ علمائے امامیہ پاکستان کی جانب سے ضیاء آمرکو پیغام بھیجا گیا کہ وہ اس غیر مہذبانہ اقدام سے باز آجائے کیونکہ یہ ملک ،اسلام کے نام پر بنا ہے اس کی آزادی میں تمام مکاتب فکر کا برابرکا حصہ ہے اس لئے کسی خاص فقہ کی بالادستی و نفاذ کے بجائے تمام مکاتب کو آزادی ہونی چاہئے کہ وہ اپنے فقہ کے مطابق عمل کریں۔

مگرحکمراںچونکہ ایک خاص ایجنڈے پر عمل کرنا چاہتے تھے اسلئے انہوں نے اس پر توجہ دینے کے بجائے زکوٰة و عشر آرڈینس پیش کردیا جس سے مکتب تشیع کے جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی جس کے بعد علمائے امامیہ پاکستان کی کال پر اسلام آباد میں عوامی اجتماع ہوا اور سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کیا گیا اور علمائے امامیہ نے عوامی مزاحمت کے ذریعہ ڈکٹیٹر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور واضح کیا کہ ہر مکتب فکر کیلئے اپنے مذہب کے تحت آزادی ہونی چاہئے اور اسکے علاوہ زکوٰة کے مسئلہ میں بھی شیعہ نکتہ نظر کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

علمائے امامیہ کی عظیم الشان کامیابی اور حکومتی اداروں کی شکست کے بعد ملکی ادارے مزید سازشوں کو عملی جامہ پہنچانے کیلئے سرگرم ہوگئے اور دوسری طرف علماء نے اس سازش کے بعد آئندہ سازشوں کے مقابلے او ر روک تھام کیلئے ایک قومی پلیٹ فارم کی تشکیل کا آغاز کردیا اور اسکی بنیاد رکھ دی گئی جس کی قیادت متفقہ طور پر علامہ مفتی جعفرحسین مرحوم کو سونپ دی گئی۔

سپاہ صحابہ کا وجود

اس قومی پلیٹ فارم کی تشکیل کے بعد حکومتی اداروں نے ملت تشیع کے مقابل حائل رکاؤٹیں کھڑی کرنے کیلئے ایک غیر مہذب، انتہاء پسند اورناشائستہ گروہ کو تشکیل دیا جن کا ماضی نہ صرف داغدار تھا بلکہ وہ ایسی حرکات میں ملوث تھے جس کا اسلام سے دور کا واسطہ نہیں تھا اسلئے ایسے گروہ کو تشکیل دیا گیا اور اسے ایک خاص مقصد او ر ٹاسک کیلئے استعمال کیاگیا۔

اس گروہ کی پیدائش کا مقصد یہ تھا کہ باہمی الفت و بھائی چارے کا خاتمہ کرکے امت مسلمہ میں تفرقہ انگیزی کو پیدا کیا جائے ، اس گروہ نے حکومتی اداروں کے اس ٹاسک کو مکمل طریقے سے انجام دیا اور ایک ایسا ماحول پیدا کردیا گیا جس سے ملک کے گلی کوچوں، بازاروں ، مساجد سے ملت جعفریہ کے خلاف تکفیر بازی کی جاتی رہی، آئمہ معصومین علیہم السلام کی شان میں گستاخی کی جاتی رہی، عقائد مکتب تشیع کی توہین کی جارتی رہی، گلی کوچوں، بازاروں اور مساجد سے قتل کرو اور مارو مارو کی صدائیں بلند کی جاتی رہی اور لوگوں کوقتل کرنے کی تشویش دلائی جاتی رہی ، یہ وہ مناظرتھے جس کامشاہدہ ملک کے ریاستی ادارے کررہے تھے بلکہ آئین پاکستان پامال ہورہاتھا۔

مگر ان تمام غیر مہذبانہ ماحول کے باوجود ملت تشیع پاکستان کے قائدین ، علمائے کرام، زعمائے ملت اور عمائدین قوم نے بہت ہی اہم کردار ادا کیا اور قو م کو اس سلسلے میں متانت، بردباری اور صبر کی تلقین کی، ان تمام عوامل سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملت تشیع پاکستان کے حقوق کو غصب کرنے کیلئے ، آزادیوں کو سلب کرنے کیلئے اور عقائد و نظریات پرقدغن لگانے کیلئے کس انداز سے حکومتی سرپرستی میں ایک گروہ پیدا کیا گیا تاکہ شیعہ ملک میں آزادانہ روش کے حامل نہ ہوسکیں ۔

اس کے علاوہ اس غیر مہذب گروہ نے اپنے نجس مقاصدکی تکمیل کیلئے صحابہ کرام کے نام کو استعمال کیا تاکہ ان ناموں کے ذریعے برادراں اہل سنت کو بھی اس طرف متوجہ کیا جائے اور اپنے مقاصد کیلئے انہیں استعمال کیا جائے مگر قائد ملت نے ملک کے تمام فورمز، مذہبی جماعتوں ، دینی اداروں اور دیگر مکاتب فکر کے ذریعے یہ بات تمام مسلمانوں پر یہ بات واضح کردی کہ اس غیر مہذب گروہ کا مسلمانوں کے کسی بھی مکتب سے تعلق نہیں ہے بلکہ اسے صرف اور صرف تفرقہ انگیزی کیلئے پیدا کیا گیا ہے جس کی تائید خود معروف دینی و مذہبی اداروں نے بھی کی جس بعد اس گروہ نے بریلوی اور دیوبندی مکتب فکر کے خلاف بھی تکفیر بازی کی اور قتل و غارتگری کا بازار گرم کیا۔

دہشت گردی (سابقہ افغان پالیسی)

ملک کے ریاستی اداروں نے پڑوسی ملک افغانستان کے حوالے سے ایسی افغان پالیسی تشکیل دی جس کا کسی طورسے بھی ملک کو کوئی فائدہ نہیں تھا بلکہ اس کے نقصانات اخلاقی، مالی، ثقافتی، نقل و حرکت اور امن و امان کے حوالے سے شدید تھے مگر یہ پالیسی ایک خاص ادارے نے تشکیل دی اور اسکے پس پش کثیر منصوبہ بندی تھی جس کے اثرات اب بھی پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں۔

امریکی اشارے پر ایک مختصر سے طالبان نامی خطرناک جاہل مذہبیت رکھنے والے افراد کو حکومتی ادارے نے منظم کیا ان افراد کی تربیت کیلئے تربیتی کیمپس قائم کئے گئے جہاں پر انہیں عسکری تربیت دی جاتی تھی اور دوسرے مذاہب کے خلاف جنونیت کا جذبہ پیدا کیا جاتا تھا اس کے علاوہ پالیسی کا اختتام یہاں نہیں ہوتا بلکہ ملکی کثیر سرمایہ کو وہاں صرف کیا گیا وہاں توڑا بوڑا جسے کھنڈرات بنائے گئے او ر ان لوگوں کو اتنا طاقتور کردیاگیا کہ وہ اپنے علاوہ کسی کو برداشت کرنے تک کو تیار نہیں تھے اور دنیا کے سامنے طالبان کو نمائندہ اسلام بناکر اسلام کی ایسی مکروہ ، خطرناک اور اخلاق سے عاری شکل پیش کی گئی کہ لوگ اسلام سے نفرت کرنے لگیں، اسے دہشت گرد مذہب سمجھنے لگیںاور جہاں اسلام کا نام لیا جاتا وہاں اسے دہشت گرد کے طور پر لازم و ملزوم تصور کیا جاتا وہ کثیر المقاصد منصوبہ بندی تھی جس کا مقصد اسلامی انقلاب کے اثرات کو روکنااور ملت جعفریہ پاکستان کے راستوں کو مسدود کرنا۔

اسکے بعد طالبان جیسے انتہاء پسند اور پاکستان میں موجود سپاہ صحابہ نامی دہشت گرد ٹولے کا آپس میں اتحاد و الحاق و روابط ایک فطری عمل تھا مگر اس فطر ی عمل کے باوجود حکومتی اداروں کے ذریعہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے دہشت گرد ایک خاص روٹ کے ذریعے افغانستان کے عسکری کیمپوں میں جاتے رہے اور وہاں عسکری تربیت کے علاوہ ، ذہنی طور پر بھی انہیں ایسے تیار کیا جاتا کہ شیعوں کے خلاف تکفیر بازی عبادت، قتل کرنا ٧٠حج کے برابر ، انہیں اس قدر شدت پسند بنادیا جاتا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریزان نہ تھے جس سے ملک کی سا لمیت کو نقصان پہنچتا ہو۔

اسلئے حکومتی سرپرستی میں ملت تشیع کے خلاف عالمگیر سازش تیار کی گئی اور ملکی کثیر سرمائے کو اس غلیظ منصوبہ بندی کی نذر کردیاگیا یہ مرحلہ کس قدر تمسخر سے عبادت ہے کہ افغانستان کے کیمپوں میں تربیت تافتہ دہشت گرد تربیت حاصل کرکے سرحدوں کو پار کرکے ملک میں ایک مخصوص راستے سے داخل ہوتے ، تمام تفصیلات ان کے پاس موجود ہوتیں ، کہاں سے آنا ہے، کس وقت قتل کرنا اور کس روٹ سے واپس جانا ہے اس طرح کی کثیر منصوبہ بندی کسی فرد یا گروہ کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ کام کسی منظم ادارے کا معلوم ہوتا ہے ۔

سابقہ افغان پالیسی کا ایک حصہ دہشت گردی تھا جس کے ذریعہ مکتب تشیع کے ڈاکڑز، ٹیکنوکریٹس، علماء و ذاکرین او ر دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کو ٹارگٹ کیا جاتا، مساجد و امام بارگاہوں کو نمازیوں اور عزاداروں کے خون سے رنگین کیا گیا مگر کوئی ایسی قوت نہ تھی جو اس کا نوٹس لیتی ان اداروں نے اپنی ریشہ دوانیوں کو تقویت دینے کیلئے تمام اداروں کو مفلوج کردیا تاکہ کوئی بھی کسی قسم کا اقدام نہ کرسکے، اور جن حکومتی فرض شناس افسران نے دہشت گردوں کو لگام دینے کی کوشش کی انہیں موت کے گھاٹ اتا ر دیا گیا۔

دہشت گردی کے فروغ کے مقاصد

دہشت گردی کو فروغ دینے کے مقاصد مختلف تھے ایک یہ تھا کہ ملک میں شیعہ و سنی کا مسئلہ پیدا کیا جائے اور فرقہ واریت کو فروغ دیا جائے ، دوسرا مقصد یہ تھا کہ دہشت گردی کے ذریعے شیعوں کو فوجی قیادت سے متنفر کیا جائے تاکہ وحد ت کا خاتمہ ہوسکے تیسرا مقصد یہ تھا کہ دہشت گردی کے ذریعہ شیعوں کو دباو میں لایا جائے تاکہ کسی بھی قانون سازی کو قبول کرلیں چوتھا مقصد یہ تھا کہ شیعوں میں سے ایک ایسے گروہ کو پیدا کیا جائے جو انتقام کیلئے اٹھ کھڑے ہوں ، اس تمام صورتحال میں قومی قیادت کا کیا کردار رہاہے ۔

قائد ملت جعفریہ نے قوم کو جذباتی ، غیر شعوری اور عدم معلومات کے بجائے حقائق کی طرف متوجہ کیا او ر ان تمام حالات میں ملی و قومی فریضہ کی طرف متوجہ کیا انہوں نے دہشت گردی کا جواب دہشت گردی سے دینے کی بجائے امن پسندی، مہذبانہ طرز عمل اور دوررس اقدامات کے ذریعہ کیا،اپنے عزیزان و دیگر افراد کے جنازوں تک پر کسی بھی جذباتی انداز کو اپنانے سے گریز کیا بلکہ ان دہشت گردی کے واقعات کے پس پشت عناصرکو بے نقاب کیا اور وحدت، امن پسندی اور بھائی چارے کا درس دیا انہوں نے واضح کیا کہ اس ملک میں شیعہ و سنی کا کوئی مسئلہ نہیں بلکہ مکمل ہم آہنگی اور بھائی چارگی کی فضا قائم ہے ۔

شریعت بل

حکومتی اداروں نے وقتافوقتا مکتب تشیع کی آزادیوں کو سلب کرنے کیلئے مختلف قسم کی سازشوں کو اختیار کیا کبھی دہشت گردی کا بازار گرم کیا گیا ، بے گناہ ، معصوم ، روزہ داروں اور عزاداروں کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا گیا اور کبھی ایسے ٹولوں کو تقویت دی گئی اور استعمال کیاگیا جنہوں نے کھلے بندوں مسجدوں سے تکفیر اور قتل کروکے نعرے بلند کئے اس کے علاوہ تمام سازشوں کے ساتھ ساتھ شریعت بل کا شوشہ چھوڑا گیا جس کیلئے ایک مُلا کو استعمال کیا گیا جس کا تعلق مسلمانوں کے کسی بھی مکتب فکر سے نہیںتھاان حکومتی اداروں نے مکتب تشیع کے خلاف ایک زہریلا ، غیر مہذبانہ اور آزادیوں کو سلب کرنے والا بل تیا ر کیا جس کو شریعت بل کے نام سے موسوم کیا گیا اور اس جاہل ، بے وقوف اور اندھے مُلا کے حوالہ کیا گیا تاکہ وہ ملکی ایوانوں کا تقدس پامال کرے اور اس شریعت بل کو پیش کرے، بالاخر یہ شریعت بل ملکی اداروں کی پالیسی کے تحت سینیٹ میں پیش کیا گیا اور ١١٢ نمائندگان نے دستخط کردئیے جنہیں اس کی ہیئت ترکیبی ہی کا پتہ نہ تھا ، یقینا یہ ایک نازک مرحلہ تھا اور اسکے لئے مدبرانہ طرز عمل کو اختیار کرنے کی ضرورت تھی تاکہ ملت تشیع کے خلاف ہونے والی اس گہری سازش کا مقابلہ کیا جاسکے۔

قائد ملت جعفر یہ نے اپنی مدبرانہ قیادت کے ذریعے سینیٹ کے ایوان نمائندگان سے فوراً رابطے کئے اور انہیں اس کے زہریلے اثرات سے آگاہ کیا اور ان پر واضح کیا کہ یہ شریعت بل صرف شیعوں کی آزادی اور حقوق کو سلب کرنے کیلئے پیش کیا گیا ہے تو یہ آپ کی کام خیالی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے یہ شریعت بل نہ صرف ہمارے عقائد پر ضرب لگانے کیلئے ہے بلکہ برادران اہل سنت کی آزادی کو سلب کرنے کا وسیلہ بھی بنے گا۔

بالاخر ان نمائندگان نے اپنے دستخطوں کو اس بل سے حذف کردیااور یہ ردی کی ٹوکری کی نذر ہوگیا، یاد رہے بعد میں بھی قومی اسمبلی میں مُلا نے شریعت بل پیش کیا جس پر ٩٠ کے قریب نمائندگان نے دستخط کئے اوربعد میں اسی کوشش کے ذریعے دستخط حذف ہوگئے اور آخرکار اس سازش کو ناکام بنادیا گیا۔

وحدت فورم

وحدت امت مسلمہ کے حوالے سے مختلف مواقع پر جدوجہد کی گئیں جس کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیںکبھی اعلامیہ وحدت کے حوالے سے مختلف مکتب فکر کے علماء اور اکابرین کے ساتھ اعلامیہ وحدت پر دستخط کئے گئے جس میں یہ عہد کیا گیا کہ کوئی بھی مسلماں کسی مسلماں بھائی کے مکتب فکر پر اعتراضات نہیں کرے گا ، کوئی غلیظ نعرے بازی نہیں ہوگی، بزرگان کااحترام کیا جائے گا اور مکمل اتحاد و وحدت کی فضا قائم کی جائے گی۔

مگر کوئی خاص تنظیم ، پلیٹ فارم یا ادارہ نہیں تھا جس کے ذریعہ تمام باتوں کومکمل سنجیدگی کے ساتھ عمل درآمد کرایا جاسکے، قائد ملت نے اعلامیہ وحدت اور دیگر فورمز پر اپنی کامیابی کو ناکافی سمجھتے ہوئے ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت کو محسوس کیا جس کے اثرات کو پورے ملک پر مرتب کیا جاسکے، اس سلسلہ میں انہوں نے تمام مکاتب فکر سے رابطہ کیا او رانہیں وحدت امت مسلمہ کی اہمیت سے آگاہ کیا اور ان پر واضح کیا کہ یہ وہ دور نہیں کہ ہم اپنی اپنی خلوتوں میں عبادات میں مشغول رہیں اور دشمن جو چاہے کرتا رہے اسی لئے ہمیں اپنی خانقاہوں سے نکل کر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جس سے دشمناں اسلام قوتوں کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑے اور مکتب اسلام سربلند رہے۔

ان تمام کوششوں کے نتیجے میں ملی یکجہتی کونسل کا وجود عمل میں لایا گیا جس میں امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد، جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق، پروفیسر ساجد میر، مولانا شاہ احمد نورانی اور دیگر مکاتب فکر شامل تھے یہ ایک ایسا اتحاد تھا جس کی نظیر برصغیر میں نہیں ملتی جو کہ تاریخی اعتبار سے کسی انقلاب سے کم نہیں اس وحدت کے ذریعہ اسلام دشمن قوتوں کی سازشیں نابود ہوگئیں ، فرقہ واریت کا خاتمہ ہوگیا اور ملک میں امن و امان ، بھائی چارگی اور محبت کی فضا قائم ہوگئی۔

اسی لئے یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ملی یکجہتی کونسل کے بننے سے لے کر اور غیر موثر ہونے تک ایام عزاء میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، مگر دشمن اسلام قوتوں کو یہ اتحاد ناگوار تھا وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ تمام مکاتب فکر وحدت و امن کے ساتھ رہیںاسلئے اسے مختلف معاملات میں الجھانے کی کوشش کی گئی تاکہ یہ کسی نہ کسی مشکل سے دوچار ہوجائے جس سے ملی یکجہتی کونسل اور علمائے کرام کا تقد س پامال ہو، اسلئے قائد ملت نے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے اسے غیر موثر کردیا۔

اسکے کچھ عرصے بعد ایک اور کوشش کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں ایک اور وحدت فورم ''متحدہ مجلس عمل''کے عنوان کے تحت وجود پذیر ہوا متحدہ مجلس عمل کی تشکیل ، ہیئت اور افکار میں، ماضی کی طرح حال میں بھی قائد ملت کی مخلصانہ ، مدبرانہ او ر دانشمندانہ جدوجہد کا عمل دخل ہے یہ فقط مبالغہ نہیں بلکہ جس کا اعتراف خود دیگرمکاتب فکر کے علماء بھی کرتے ہیں،متحدہ مجلس عمل وہ مثالی اتحاد تھا جس نے ملک میں فرقہ واریت ، دہشت گردی اور انتہاء پسندی میں ملوث اداروں ، تنظیموں اور افراد کو بے نقاب کیا ہے اور اپنے عمل و کردار سے ان تمام اداروں اور عوامل کی نفی کی ہے۔

قائد ملت کا یہ لازوال کارنامہ ہے کہ انہوں نے ان وحدت فورمز کے ذریعہ بالخصوص متحدہ مجلس عمل کی تشکیل سے یہ ثابت کردیا کہ اس میں ملت اسلامیہ کے تمام مکاتب فکر موجود ہیں اور سب ایک دوسرے کے مذاہب کا باہمی احترام کرتے ہیں اورجو لوگ سنی یا دیوبندی کے لبادے میں غلیظ نعرے بازی کرتے ہیں وہ کسی بھی مکتب فکر کے ترجمان نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ایسا ٹولہ ہے جس کا مقصد و منبع ملت اسلامیہ میں اختلاف و افتراق کو پیدا کرنا ہے تاکہ فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی جاسکے۔

اس لئے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر جمع ہوکر اور باہمی یکجہتی ، اعتماد اور دوسرے مکاتیب کا احترام کا عملی مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ اس فورم میں شیعہ ، دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث موجود ہیں انکے علاوہ جو بھی گروہ ہے وہ ایک گمراہ ٹولہ تو ہو سکتا ہے مگر اس کا کسی بھی مکتب و مسلک سے کوئی تعلق نہیں۔

حکومتی ٹاسک فورس

سابقہ فوجی حکومت کے دور میں ایک ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں بعض علماء نما لوگوں کو شامل کیا گیا اور انہیں ایک خاص ٹاسک دیا گیا تاکہ وہ اس پر رائے دیں اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں، جس میں سرفہرست مسئلہ عزاداری سید الشہداء کو محدود کرنے کا تھا جب اس مسئلہ کو حکومتی ٹاسک فورس کے ملاؤں سے سپر د کیا گیا تو انہوں نے حکومتی خوشنودی کیلئے رپورٹ پیش کی کہ یہ جلوس عزاداری ملک میں امن و امان کے مسئلہ کیلئے شدید ہیں اسلئے اسے قانون سازی کے ذریعے محدود کیا جائے اور ایک مخصوص روٹ طے کیا جائے، عزاداری پر پابندی لگانے کیلئے امن و امان کے مسئلہ کو بہانا بنایا گیا تاکہ ملت جعفریہ کے حقوق پر ضرب لگائی جاسکے۔

قائد ملت نے اس سنگین مسئلہ کا نہایت سختی سے نوٹس لیا اور ملک گیر دورہ جات کے ذریعہ ،پریس کانفرنس ، سیمینارز ، کانفرنسوں اور ملک بھر کے علماء و ذاکرین کے سامنے اس ٹاسک فورس کے عزائم کو بے نقاب کیا اور اداروں کو خبر دار کیا ہم کسی بھی صورت مکتب تشیع کے خلاف کسی بھی قانون سازی کو قبول نہیں کریں گے۔

قائد ملت کی اس جدوجہد کے بعد ٹاسک فورس غیر موثر ہوگئی اور اس طرح ایک بار پھر مکتب تشیع کے حقوق کی پاسداری ہوئی اور حکومتی اداروں کے عزائم خاک میںمل گئے۔

سپاہ صحابہ سے مذاکرات

حکومتی اداروں کی ازل سے یہی منصوبہ بندی تھی کہ وہ وقتا فوقتا ایسی پالیسیوں کو مرتب کریں جس سے مکتب تشیع کو مسائل میں الجھایا جاسکے اور ا نکے لئے مختلف قسم کی مشکلات پیدا کی جاسکیںاسلئے جب ملت جعفریہ پاکستان ملک میں اجتماعی حوالے سے ابھری اور ایک قومی قیادت سامنے آئی تو ایک ناصبی ٹولے کو حکومتی اداروں نے اپنے مفادات پورے کرنے کیلئے وجود بخشا تاکہ یہ نجس وجود ملت جعفریہ کے حقوق کو غصب کرنے کیلئے معاون ثابت ہو اصلاً یہ گروہ ایک کھلونا تھا جو حکومتی اداروں کے چلانے پر حرکت کرتا تھا،اسلئے اس گروہ کو وجود دینے کے بعد ملت جعفریہ کے روبرو لایا گیا او دیگر پالیسیوں ، میڈیا کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ان دو گروہوں کی آپس میں جنگ ہے جوکہ فرقہ واریت پھیلارہے ہیں۔

جبکہ مکتب تشیع مضبوط، سنجیدہ اور متانت آمیز طرز عمل والا مکتب ہے او ر الٰہی پلیٹ فارم دراصل اسلام کی نمائندگی کررہاتھا جبکہ وہ فتنہ پرور گروہ کسی بھی مکتب فکر کی نمائندگی نہیں کرتااور وہ کیونکر کسی مکتب فکر کی نمائندگی کرتا اس لئے کہ ان کا منشور و ہدف دوسرے مذاہب کو گالیاں دینا ، قتل کرنا اور غلیظ نعرے بازی کرنا جس کی کوئی بھی مکتب فکر اجازت نہیں دیا۔

لیکن ایک خاص پالیسی کے تحت بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کو اپنایا گیا جوکہ صریحاً ظالم تھا کہ ایک صالح مکتب فکر کے نمائندہ پلیٹ فارم کو بدکار ، بدکردار اور بد عمل ٹولہ سے نسبت دی جائے، جبکہ قائد ملت نے میڈیا کے ذریعہ، حکومتی اہلکاروں سے ملاقاتوں کے ذریعہ اور دیگر حوالوں سے ہمیشہ یہ واضح کیا ہے کہ ہم وحدت کے داعی ہیں کسی بھی مکتب فکر کے خلاف ہرزہ سرائی کو حرام سمجھتے ہیں اور اپنے کو کسی پر مسلط کرنے کو غیر مہذبانہ انداز گردانتے ہیں، ہم فرقہ واریت کے مخالف ہیںہر فورم پر اس کی مذمت کی ہے اور اسے اسلام و ملک کے خلاف گہری سازش قرار دیتے ہیں۔

جبکہ دوسری طرف سپاہ صحابہ کے گماشتے فرقہ واریت، دہشت گردی اور انتہا پسندی ، غیر مہذبانہ افکار کے حامل ہیں تو انصاف کا تقاضہ ہے کہ ظالم و مظلوم ایک نہیں ہوسکتے ہیں یہ صریحاً ظلم ہے، مگر یہ ظلم ہوتا رہاا ور حق کی طاقت کو دبانے کی کوشش کی جاتی رہی اور ملک میں مصنوعی فضا کے ذریعہ فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خاتمے کے ڈھول بجائے جاتے رہے اور اس بات کو بنیاد بناکر کہ یہ دو گروہ ہی ہیں جو کہ ان تمام عوامل میں ملوث ہیں اسلئے انہیں آپس میں مذاکرات کی میز پر بٹھایا جائے ملک کی سادہ اکثریت جنہیں حالات کی عمیق گہرائی کاعلم نہ تھا وہ اسے بہت انقلابی اقدام قرار دینے لگے کہ یہ ملک کی بہت ہی اہم خدمت ہے۔

مختلف حوالوں سے قائد ملت پر ڈباؤ ڈالا جاتا رہا کہ سپا ہ صحابہ سے مذاکرات کریں مگر قائد ملت نے ہمیشہ اس کی نفی کی اور اس موقف کو دہرایا کہ مذاکرات برابری کی بنیا د پر ہوتے ہیں اور ہمیں جس فریق سے مذاکرات کیلئے حکمران ادارے دباؤ ڈال رہے ہیں وہ کسی بھی مکتب فکر کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ وہ ایک خصیص ٹولہ ہے جس کا مقصد مسلمانوں میں افتراق پھیلانا ہے۔

اسکے علاوہ قائد ملت نے دوسرا موقف یہ دہرایا کہ اب چونکہ وحدت فورم بن چکا ہے اس لئے جسے کوئی مسئلہ درپیش ہے وہ ان اداروں میں آکر بات کرے، ان ٹولوں کی کوئی حیثیت نہ تھی بلکہ حکومتی ادارے اپنے خفیہ منصوبے کے تحت اسے چلا رہے تھے اس لئے مذاکرات میں فقط سپا ہ صحابہ کا ہونا گویا کہ کٹھ پتلی کردار ہونے کی علامت ہے۔

دراصل بعض خفیہ ادارے ان مذاکرات کے ذریعے کچھ مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے تاکہ غیر محسوس طریقے سے مکتب تشیع کی آزادیوں کو سلب کیا جاسکے اور ملکی میڈیا ، جرائد ، عوام او ر دیگر طبقہ ہائے فکر کو ایک نمائشی خاکہ دکھا دیا جائے کہ ہم نے سپاہ صحابہ کو منالیا ہے او وہ کچھ چیزوں میں تخفیف پر آمادہ ہوگئے ہیں او ر دوسری طرف شیعہ حضرات بھی اپنے عقائد کے بعض مسائل میں آمادہ ہوگئے ہیں جبکہ اس ساری نقل و حرکت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سپا ہ صحابہ کے پاس ہے کیا جسے وہ قبول کریں گے اور کچھ چیزوں میں تخفیف پر راضی ہوں جائیں گے بلکہ وہ تو ایک دہشت گرد ٹولہ ہے جو کسی مکتب فکر کی نمائندگی نہیں کرتا جبکہ دوسری طرف مکتب تشیع اسلام کی حقیقی نمائندہ ہے۔

بعض اداروں کی طرف سے قائد ملت پر حد درجہ دباؤ دڈالا گیا اور بہت سے غیر مہذبانہ طریقے بھی استعمال کئے گئے مگر آپ نے اپنے جد محترم سید الشہداء امام حسین علیہم السلام کے افکار سے الہام لیتے ہوئے یزیدان عصر کی غیر مہذبانہ مذاکراتی شرائط کے مقابل ''ھیہات من الذلة ''کی صدا بلند کی اور مذاکرات کے تمام حکومتی دعووں کو پیروں تلے روند ڈالا۔

اب اس ذلت آمیز اور شرمناک شکست در شکست کے بعد یہ ادارے خاموش رہے ؟ نہیں، ہرگز نہیں، بلکہ ان مذاکراتی ناکامی کے بعد انہوں نے اس کا بدلہ شیعوں کے قتل عام کے ذریعے لیا تاکہ قائدملت پر دباؤ ڈالا جائے اور شیعہ قوم کو جذباتی کرکے متنفر کیا جائے۔

اس مرحلے پر قوم جذباتیت کا شکا رتھی مگر قائد ملت اطمینان نفس کی منزل پر تھے وہ حالات کا عمیق ادراک رکھتے تھے او ر حکومتی اداروں کی سازشوں کے حرف حرف کو جانتے تھے ، مذاکرات کی ناکامی کے سلسلے میں دہشت گردی کی گئی تاکہ یہ لوگ گھبرا کر مذاکرات کرلیں مگر ایسا نہ ہوسکا قریبی عزیزان کو شہید کیاگیا مگر ایسا نہ ہوسکا، جھوٹے مقدمات درج کئے گئے مگر ایسا نہ ہوسکا۔

ان تمام محاذوں پر ریاستی اداروں کی ناکامی کے بعد اور کوئی راستہ ان کے پاس نہ تھا جس کے ذریعہ وہ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوسکیں اس لئے بالاخر اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کیلئے تحریک جعفریہ پاکستان پر پابندی عائد کردی گئی اور اس پابندی کے پس پشت ان عوامل کو رکھا گیا جس کا دور دور تک تحریک سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اس بات کا بغور جائزہ لیا جاسکتا ہے کہ ایک ریاستی قوت جس کے پاس تمام وسائل موجود ہوں مگر وہ ایک تنظیم سے شکست کھا جائے اور کثیر سرمایہ کاری اور طویل منصوبہ بندی کے باوجود اس تنظیم کو اور قائد ملت کو جھکانے میں ناکام ہوجائے، تو فقط یہ معجزہ ہے یا پھر اس کے پیچھے مدبرانہ حکمت عملی، مدبرانہ طرز عمل ہے جس نے بے سروسامانی کے باوجود آئمہ معصومین علیہما السلام کے افکار سے درس لیتے ہوئے یزیدان عصر کی سازشوں کو پاش پاش کردیا۔

حکومتی اداروں کی غیر مہذبانہ شرائط

عرصہ دراز سے جہاں سپاہ یزید سے مذاکرات کیلئے دباؤ ڈالے جارہے تھے وہاں اسی کے ساتھ دیگر مطالبات کو بھی منوانے کی کوشش کی جارہی تھی ظاہراً یہ مطالبات سپاہ یزید کررہی تھی مگر اندرونی طور پر یہ مطالبات بعض ادارے اپنے دام میں لئے ہوئے تھے۔

مطالبات :

١۔ اذان میں علی ولی اللہ سے آگے خلیفة بلافصل نہ پڑھا جائے جس سے دوسرے مکاتب فکر کی دل آزاری ہوتی ہے۔

٢۔عزاداری سید الشہداء کو محدود کیا جائے جس سے ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

٣۔ شیعوں کے قتل میں ملوث سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کو عام معافی دی جائے۔

٤۔مُلا کے مرتب کردہ شریعت بل کی حمایت کی جائے۔

٥۔ سپا ہ صحابہ سے مذاکرات

ان تمام مطالبات کو قائد ملت پہلے ہی رد کرچکے تھے اس پرکسی قسم کے سمجھوتے کیلئے تیار نہ تھے اسلئے حکومت نے اپنے ان مفادات کی آڑ میں ایک مبہم قتل کیس میں قائد ملت کو رات و رات گرفتار کرلیا اور اسلامی تحریک پاکستان پر پابندی عائد کردی۔

حکومتی اداروں نے گرفتاری کے بعد اس قتل کیس پر بات کرنے کے بجائے اپنے انہی مطالبات کو دہرانہ شروع کیا اور قائد ملت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے تاکہ وہ کسی نہ کسی ڈیل پر آمادہ ہوجائیں۔

مگر قائد ملت نے ان پر واضح کردیا کہ : میں مسند شہادت پر قدم رکھ سکتا ہوں ، اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرسکتا ہوں مگر مکتب آل محمد علیہماالسلام کے خلاف کسی بھی قسم کی پابندی کو برداشت نہیں کرسکتا۔

قائد محترم نے اس موقف کے بعد ایک خط علامہ شیخ محسن علی نجفی صاحب قبلہ کے نام عربی میں تحریرکیا جس میں تمام حقائق ، حالات اور مطالبات کو درج کردیااور واضح کردیا کہ کس جرم کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے ، علامہ محسن نجفی اس خط کو پڑھ کر رونے لگے اور افسوس کا اظہار کرنے لگے کہ میں اپنی مذہبی و مدارس کی مصروفیات میں مشغول تھا ہمیں معلوم ہی نہ تھا آقائی ساجد نقوی یک و تنہاء خاموش جہاد کررہے تھے ۔

جب یہ تمام حقائق قائد ملت کے خط کے توسط سے عوام میں پہنچے تو حکومتی اداروں پر لرزہ طاری ہوگیا اور ان کے چہروں پر سے نقابیں اترگئیں ، اب جب یہ ادارے اندروں طور پر ناکام ہوگئے تو انہوں نے باہر کام کرنے والے علماء سے رابط کیا اور انہیں سے یہ مطالبات دہرانا شروع کیا اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کی کہ اگر یہ مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو قائد ملت کی گرفتاری طویل بھی ہوسکتی ہے ۔

علمائے امامیہ اداروں کی پالیسی سے آگاہ تھے اسلئے انہوں نے دام میں پھنسے کی بجائے اسی روش کو اختیار کیا جس کی طرف قائد ملت نے اپنے خط میں تذکرہ کیا تھاکہ میری گرفتاری سے زیادہ ملت جعفریہ کے عقائد، نظریات اور عزاداری کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی قانون سازی کو قبول نہ کریں بلکہ اس کی شدید مزاحمت کریں ،بالاخر ادارے گرفتاری کے ذریعے جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے اسے حاصل نہ کرسکے پابند سلاسل ہونے کے باوجود قائد ملت نے ان کے ہر مطالبے کو رد کیا اور علماء و قوم نے قائد کی پیر وی میں کسی دباؤ کو خاطر میں لانے کی بجائے مسترد کردیا۔

لبیک یا حسین کانفرنس ریلی (١٤ مارچ ٢٠٠٤)

قائد ملت جعفریہ کی عدم رہائی اور اداروں کی طرف سے مطالبات کو تسلیم کروانے پر اصرار بڑھتا گیاجس کے نتیجے میں علمائے امامیہ کے بزرگان نے یہ فیصلہ کیا کہ قائد ملت کی رہائی، حکومتی اداروں کے ناروا سلوک اور عوام الناس تک حقائق پہنچانے کیلئے ایک احتجاجی پروگرام ترتیب دیا جائے جس کے ذریعہ حکومتی ایوانوں تک بھر پور آواز پہنچائی جائے اور عوامی طاقت بھرپور مظاہر ہ کیا جائے۔

تنظیمی برادراں کی محنتوں اور علمائے کرام کی رہنمائی سے وہ عظیم الشان اجتماع کا انعقاد مرکزی امام بارگاہ ، اسلام آباد میں ہوا جس کی کسی کو امید نہ تھااور بعض مبصرین کے مطابق ١٩٧٩ میں ہونے والے کنونشن سے بڑا عوامی اجتماع تھاجس میں ملک بھر کے علمائے کرام ، زعمائے ملت ، ذاکرین عظام اور دیگر شخصیات نے شرکت کی بالخصوص علامہ شیخ محسن علی نجفی، علامہ سید محمد تقی نقوی، علامہ سید محمد جواد ہادی، علامہ محمد جمعہ اسدی، علامہ حسن ترابی، علامہ غلام مہد ی نجفی نے پروگرام کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا اس پروگرام کے اسقدر مثبت اثرات مرتب ہوئے کہ جس کے نتیجے میںکچھ ہی عرصے بعد قائد ملت کو رہا کردیا گیا۔

لازوال فتح ( سپریم کورٹ آف پاکستان میں موقف)

جب ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی اور ہر طرف قتل و غارتگری کا بازار گرم تھا اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے عدالتی کاروائی کا آغاز کیا اور فریقین کو اپنے اپنے موقف کے سلسلے میں دعوت دی گئی۔

اس اہم موقع پر قائد ملت نے ایک وفد کو سپریم کورٹ کی طرف روانہ کیا جس نے عدالت کے سامنے تحریک جعفریہ پاکستان کا موقف بیاںکرنے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسا مواد عدالت کے سامنے پیش کیا جس سے ثابت ہوتا تھا کہ فرقہ واریت ، دہشت گردی اور انتہاء پسندی کا ذمہ داری کوں ہے۔

سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں سنجیدہ اقدام کرنے کا یقین دلایا اور تحریک جعفریہ پاکستان اور قائد ملت کو امن پسند اور محب وطن قرار دیا، سپریم کورٹ کا تاریخی کردار اداکرنے کی طرف گامزن تھا جس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ نکلنے امکانات روشن تھے مگر بعض ادارے اس میں رکاوٹ تھے او ر وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی ایسا اقدام ہو جس سے فرقہ پرستوں اور دہشت گردوں کو لگام دی جاسکے اور حقائق منظر عام پر آسکیںاسلئے چیف جسٹس سید سجادعلی شاہ کے خلاف مہم چلائی گئی اور انہیں ان کے عہدے سے نااہل کردیا گیا۔

تحقیقی دستاویز

ایک فرقہ پرست گروہ کی طرف سے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مکتب تشیع کے افراد اپنی کتب ، مجالس اور دیگر محافل میں صحابہ کرام اور ازدواج رسول کی توہین کرتے ہیں جوکہ کسی مکتب فکر کی دل آزاری ہے اسلئے اس پر قانون سازی کے ذریعے سزا ہونی چاہئے اور جب یہ موقف پیش کیا گیا تو ظاہراً اس میں بہت زیادہ جاذبیت تھی اور حکمران بھی اسے سنجیدگی سے لے رہے تھے اسلئے انہوں نے باقاعدہ قانون بنانے کا فیصلہ کیا مگر دوسری طرف اس حساس مسئلہ پر قائد ملت نے یہ موقف اختیار کیا کہ ہم کسی کی توہین نہیں کرتے ۔

اسکے علاوہ اس اہم و حساس مسئلہ پر قائد ملت کی سرپرستی میں باقاعدہ کام شروع ہوا کہ یہ تحقیق کی جائے کہ فریقین کی کوں کوں سی کتب میں توحید، نبوت، رسالت، اصحاب و ازدواج رسول ۖ کے متعلق توہین آمیز کلمات درج کئے گئے ہیں جب فریقین کی ہزارہا کتب کی تحقیق کی گئی اور ان کی ورک گردانی کی گئی تو دوہزار صفحات پر مشتمل تحقیقی مواد جمع ہوگیا جس سے ثابت ہوگیا کہ فریقین خود اصحاب و ازواج رسول ۖکی توہین کے ساتھ ساتھ توحید، نبوت اور رسالت کی توہین میں ملوث ہیں اور ایسی ایسی توہین آمیز کلمات درج ہیں جس سے ایمان خارج ہوجاتا ہے۔

تحقیقی دستاویز کا ایک ایک نسخہ سپریم کورٹ سمیت ملک کے تمام اداروں کو دیا گیا اور سوال کیا گیا کہ اب بتائیے ملک میں فرقہ واریت ، انتہاء پسندی اور توہین آمیز کردار کا ذمہ دار کوں ہے ۔

شاتم امام زمانہ (عجل) کی شکست

ملکی اداروں کا پیدا کردہ وہ ناسور ہے جس نے پورے ملک میں ملکی اداروں و ایوانوں میں مکتب آل محمد ۖ کو مخدوش کرنے کیلئے بل پیش کئے، غلیظ نعرے بازی کی، قتل کرو اور مارو مارو کے اعلانات کئے اور ایک ایسی فضا قائم کردی جس سے ایوان کا تقدس پامال ہورہا تھا اور کوئی قوت نہیں تھی جو اسے اس غیر قانونی، غیر مہذبانہ حرکات سے روکے بلکہ وہ اس کی پشت پناہی کررہے تھے۔

اور یہی وہ شخص ہے جس نے بازاروں ، کوچوں اور گلیوں میں مکتب آل محمد ۖکو گالیا ں دیں حضرت ولی العصر المہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی شان میں گستاخیاں کیں۔

اب کیا فریضہ تھا کہ اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور کوئی اسے روکنے والا نہ ہو اور وہ جہاں چاہے مکتب تشیع کی توہین کرے اسلئے اس سلسلے میں ایک سیاسی حکمت عملی کی ضرورت تھی تاکہ سیاسی طرز عمل کے ذریعہ اسے روکا جاسکے اور پر امن فضا قائم کی جاسکے اسی لئے ١٩٩٧ء کے انتخابات کے موقع پر قائد ملت نے حکمت عملی کے ذریعہ ایک غلیظ و نامراد شخص کے مقابلے میں اپنے امیدوار کو ٹکٹ دیا مگر کیا فقط امیدوار کو ٹکٹ دینے سے وہ شخص شکست سے دوچا ر ہوجائے گا جبکہ اس کا بھی مضبوط ووٹ بنک ہے اسی لئے جھنگ کا وہ ٹکٹ جو نوازشریف اپنے امیدوار کو دے چکا تھا اس سے واپس لے کر اس نے قائد ملت کے حوالہ کیا اور اپنے تمام تر تعاون کا یقین دلایا جس کی وجہ سے جہاں شیعہ ووٹ کاسٹ ہونے تھے وہاں بریلوی ووٹ بھی شیعہ نمائندہ کے حق میں گیا جبکہ جو ووٹ نواز شریف کے نمائندہ کو پڑنے تھے وہ بھی شیعہ نمائندہ کو پڑے جس کے نتیجے میں مُلا ذلیل و خوار ہوا اور ذلت سے دوچا ر ہوا اور مکتب تشیع کا ترجمان فتح و کامرانی سے ہمکنار ہوا۔

اس طرح قائد ملت کی دور اندیش پالیسیاں مکتب تشیع کی سربلندی میں مزید تابندہ ثابت ہوئیں اور ایک ایسے شخص کو ایوان سے باہر پھینک دیاگیا جو برملا مکتب آل محمد ۖکے خلاف ہرزہ سرائیاں کرتا تھا۔

سینیٹ انتخابات

مکتب تشیع کے حقوق کا دفاع کوئی آسان کام نہیں بلکہ اسکے لئے سیاسی حکمت کے بغیر کوئی اور راستہ نہ تھا جس کے ذریعہ دفاع حقوق مکتب تشیع کیا جاسکے اسلئے قائد ملت جہاں مذہبی حوالے سے حقوق کیلئے دفاع کو اپنایاوہاں سیاسی نکتہ نظر سے بھی حقوق کے دفاع کیلئے حکمت عملی کو طے کیا، کیونکہ فقط ریلیوں ، جلسوں اور مظاہروں سے حقوق کا دفاع نہیں ہوتا بلکہ اسکے لئے اس قوم کے نمائندوں کو بھی ان ایوانوں میں ہونا چاہئے جہاں سے قانوں سازی ہوتی ہے اور شیعوں کے خلاف سازش تیار ہوتی ہے۔

اور دوسری طرف ملکی اداروں میں ایسے متعصب افراد موجود ہیں جو کسی صورت نہیں چاہئیں گے کہ کوئی ایسی شخصیت ایوان نمائندگاں میں منتخب ہوجائے جو کسی نہ کسی طر ح مکتب تشیع کے حقوق کا دفاع کرتی ہو اسلئے اس صورتحال کو بھی مد نظر رکھنا تھا کہ ایسا اقدام سیاسی انداز میں کیا جائے جس کے مطابق دشمن بھی غافل ہو اور ایسا انداز اپنایا جائے جس کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی فرد اداروں تک پہنچ جائے اسلئے پی پی پی کا دوسرے دور حکومت تھاجس میں سیاسی انداز میں اس سلسلے سے استفادہ کیا گیا اور سیاسی رابطوں اور بعض شیعہ عمائدین کے ذریعہ سینیٹ میں فاٹا سے علامہ سیدمحمد جواد ہادی صاحب کو منتخب کروالیا گیااسکے بعد اس سلسلے کو مزید آگے بڑھایا گیا اور نوازشریف کے دوسرے دورحکومت میں سیاسی رابطوں کے ذریعے فاٹا سے علامہ سید عابد حسین الحسینی کو بلامقابلہ سینیٹ میں منتخب کروالیا گیا، ان دونوں شخصیات نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ مکتب تشیع کے حقوق کیلئے قائد ملت نے ہمیں منتخب کروایا ہے تاکہ بھرپور انداز میں شیعہ حقوق کا دفاع کیا جاسکے۔

نصاب تعلیم

نصاب تعلیم کا مسئلہ بھی شیعہ حقوق میں سے ہے کیونکہ ملک میں موجود بعض قوتیں کسی صورت برادشت نہیں کرتیں کہ شیعہ عوام آزادانہ طور پر اپنے عقائد، نظریات اور معارف پر عمل کریں اور ان کے بچوں تک دین کی صحیح معلومات منتقل ہو اسلئے سابقہ روایت کو پس پشت ڈال کر نصاب تعلیم کو اس طرح زہر آلود کیا گیا کہ ہم اپنے عقیدہ پر عمل پیرا نہ ہوسکیں بلکہ اس عقیدہ، نظریات اور شخصیات کو پڑھنے پر مجبور ہوں جن کا کسی طور پر اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

اسلئے نصاب تعلیم میں متفقہ امور سے انحراف کرتے ہوئے غلیظ مواد کو داخل کیا گیا اب اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے طویل جدوجہد کی گئی جس میں قائد ملت اور ان کے عظیم رفیق کار شہید نصاب علامہ سید ضیاء الدین رضوی (قدس سرہ) نے بہت اہم کردار ادا کیا، اس سلسلے میں ملک کے مختلف فورمز میں آواز بلند کی گئی جس کے نتیجے میں حکومتی اداروں کو نصاب کے سلسلے میں کامیابی نہ ہوئی مگر سازشیں جاری ہیں اور دوسری طرف سے اس کے دفاع کیلئے بھی جدوجہدجاری ہے۔

شمالی علاقہ جات

شمالی علاقہ جات خطہ میں حساسیت کے اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے جس کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا یہاں کے عوام محب وطن ،جفاکش، اسلام پسند اور ولات اہل بیت علیہماالسلام سے قلبی وابستگی رکھنے والے لوگ ہیں جنہوں نے ڈوگر راج کے خلاف طویل جدوجہد کی اور اس جدوجہد کے نتیجے میں ڈوگر راج سے آزادی حاصل کی ۔

پاکستان میں شمولیت کے بعد سے ہی اداروں نے اس تعصب سے کہ یہاں کی اکثریتی عوام شیعہ ہے بنیادی حقوق سے محروم رکھاہے جبکہ دوسری طرف بعض فلاحی اداروں نے وہاں کام شروع کیا اور وہاں کے عوام کی غربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرقہ اسماعیلی کو فروغ دینا شروع کیا مگر شیعوں کواسماعیلی بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے بلکہ شیعوں نے مشکل حالات میں بہت ہی صبرو تحمل سے کام لیا اور اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔

قومی پلیٹ فارم سے اس حوالے سے مستقل جدوجہد کی جاتی رہی او ر اس حوالے سے کافی حکومتی اداروں سے مذاکرات ہوتے رہے ، یاداشتیں پیش کی جاتی رہیںقائد ملت نے بارہا اس خطہ کا دورہ کیا اور دور دراز کے علاقو ں تک گئے بلکہ ان پہاڑی علاقوں تک گئے جہاں پر سڑک بھی نہ تھی بلکہ ایک طویل پیدل سفر کیااسکے علاوہ وہاں کے محروم و مظلوم عوام کے حقوق کیلئے قانونی ، سیاسی اور وحدت کے میدان میں جدوجہد کی، شمالی علاقہ جات کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کے حوالے سے تحریک جعفریہ پاکستان نے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی تھی کہ یہ خطہ حساس ہے او ر اسکے ساتھ ساتھ یہ پاکستان کا حصہ ہے اسلئے وہاں کے محب وطن عوام کو انکے حقوق ملنے چاہئیں سپریم کورٹ نے بھی اس سنگین مسئلہ کو سنجیدگی سے لیا او ر بالاخر کامیابی ہوئی اور سپریم کورٹ نے آرڈر جاری کردئیے ۔

شمالی علاقہ جات کے ١٩٩٤ کے انتخابا ت میںقائد ملت کی حکمت عملی کے نتیجے میں تحریک جعفریہ پاکستان کو بھر پور کامیابی ہوئی اور یہ ایک سیاسی فتح تھی جس نے ملک میں بہت اثرات مرتب کئے جس کے نتیجے میں وفاقی حکومت نے اپنے اثر ورسوخ اور وسائل کے ذریعہ ٹی جے پی کی حکومت نہیں بنے دی مگر اس کے باوجود اس حکومت میں بھر پور عمل دخل رہایہ وہ مرحلہ تھا جب تحریک جعفریہ کی کامیابی اور سیاسی سفر عروج پر تھا جس کی بناء پر مختلف طریقوں سے راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسکے بعد ١٩٩٩ کے انتخابات ہوئے اس وقت مسلم لیگ ، نواز شریف کی حکومت تھی انہوں ان انتخابات میں کامیابی کیلئے سرکاری خزانے کا منہ کھول دیا تقریبا ٢ ارب روپئے مختص کئے گئے اور ٦ ہیلی کاپڑ اور ٦ وزراء معین کئے گئے تحریک جعفریہ پاکستان کو الیکشن میں شکست دینے کیلئے اور جب ٢٠اکتوبر کو ملک میں تبدیلی آئی تو اسلام آباد ایر پورٹ سے ایک وزیرگرفتار ہوا جس کی جیب سے ٢٠ کروڑ کا چیک برآمد ہوا جو گلگت جارہاتھا۔

اسکے باوجود الیکشن میں بنے والی حکومت تحریک جعفریہ پاکستان کی تھی اور چیف ایگزیٹیوکا تعلق بھی تحریک سے تھا۔

علماء کمیٹی

جب دہشت گردی عروج پر تھی تو حکومت نے ہمیشہ کے طریقہ کار کے تحت مصالحت کیلئے فریقین اور ملت جعفریہ کو بٹھانے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں ہمارا موقف پہلے ہی واضح تھااسلئے مختلف معاملات طے کرنے کیلئے ڈاکڑ اسرار احمد کو علماء کمیٹی کا چیرمین مقرر کیا گیا جو کہ ایک متنازعہ شخصیت تھی، بحرحال ڈاکڑ اسرار احمد کی سربراہی میں کمیٹی کا آغاز ہوا غورطلب بات یہ ہے کہ ہماری طرف سے ہمیشہ مہذبانہ انداز میں بات کی گئی جبکہ وہ اب بھی غیرمہذبانہ طرز عمل کو اختیار کئے ہوئے تھے اسلئے جب کمیٹی میں شیعوں کو مسلمان ماننے کی بات آئی توانہوں نے برملا تکفیر کے نعرے بلندشروع کئے۔

جس پر قائد محترم نے ڈاکڑ اسرار احمد کو متوجہ کیا کہ آئین میں مسلمان کی تعریف معین ہے اسلئے کسی کے عقیدہ یا نظریات کی کوئی پرواہ نہیں ہے اسکے باوجود وہ گروہ توہین کرتا رہا جس پر قائد ملت نے یہ کہہ کر اس کا بائیکاٹ کیا کہ یہ کل تک ہمارے آباء و اجداد و مکتب کی توہین کرتے تھے اور اب ہمارے سامنے یہ جرات کررہے ہیںاس لئے کسی بھی ایسی کمیٹی میں بیٹھنے کو اہل بیت علیہما السلام کے مذہب کی توہین سمجھتا ہوں۔

مگر اس سے قبل ایک اجلاس میں مسلماں کی تعریف کے عنوان سے یہ طے ہوا تھا اور قائد ملت نے اس کی تعریف بیان کی تھی کہ اس طرح لکھا جائے کہ ''بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث اور شیعہ مسلمان ہیں لہٰذا جو انکی تکفیر کرے گا وہ سزاوار ہوگا ''اور انکے علاوہ دیگر باتوں کو بھی طے کیا تھااور یہ واضح کیا تھا کہ پریس کو اسوقت تک نہ بتایا جائے جب تک یہ متفقہ نہ ہوجائے مگر ڈاکڑ اسرار نے کسی انداز سے پریس کو بتادیا جس پر احتجاجاً قائد ملت نے اسکے ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

علماء بورڈ

تحریک جعفریہ نے اپنے مکتب و ملت کا تحفظ جاری رکھتے ہوئے صوبہ پنجاب میں حکومت کے قائم کردہ ایک بااختیار متحدہ علماء بورڈ میں اپنا فعال کردار ادا کیا یہاں بھی قائد ملت کی طرف سے علماء نے نمائندگی کی اور مخالف فریق کے اکابرین کی ٤٠ سے زائد کتب ضبط کراکے ثابت کردیا کہ مسلمانوں میں انتشار کا اصل سبب کون ہیں یہ دیکھ کرفرقہ پرست گروہ حسب سابق راہ فرار اختیار کرتے ہوئے اس پلیٹ فارم سے بھی بھاگ گئے اور ہم نے تمام حالات کے باوجود حق کا علم سربلند کئے رکھا۔

مجلس عمل کے وجود کے اثرات

مجلس عمل کی تشکیل کے جو اسباب تھے وہ الحمدللہ حاصل ہوئے اور ملک میں وحدت کی فضاقائم ہوئی مگر کیا فقط یہی سب کچھ اسباب تھے جس کی بناء پر اس کاوجود عمل میں آیا تھا جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ اس کے بنانے کے ایسے دور رس مقاصد تھے جن کا حصول فوری ممکن نہیں مگر پھر بھی اب بہت سے ظاہر ہوچکے ہیں اور ظاہر ہورہے ہیں اور نمودار ہوتے رہیں گے۔

تکفیر بازی :

ایک خاص گروہ جو انتشار وافتراق پھیلانے کیلئے تکفیر بازی کیا کرتاتھا اور کافر کافر کے نعرے لگانے کے ساتھ دیواروں پر تکفیری نعرے لکھے جاتے تھے اور رہبراں مکتب تشیع کے خلاف غلیظ نعرے دیواروںپر تحریر کئے جاتے تھے جبکہ عام تاثر یہ تھا کہ اس گروہ کے ساتھ دیگر مذہبی فرقے اور جماعتیں بھی شیعہ تکفیر کے قائل ہیں اسلئے وہ بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں جبکہ ایسا ہرگز نہ تھا۔

الحمد للہ جب سے مجلس عمل کا وجود تشکیل پایا اسوقت سے ذہنوں میں کافی تبدیلیاں پیدا ہوئیں اپنی خلش کو اکھاڑ پھینک دیاگیا اور وحدت کو تمام مفادات سے بالاتر قرار دے دیاگیا اسلئے مجلس عمل کے وجود کا اثر یہ ہے کہ مکتب تشیع کے خلاف تکفیر اور دیگر توہین آمیز نعرے دیواروں پر تحریر تھے اس کو خود مجلس عمل میں موجود دیوبندی او ر بریلوی کارکناں نے مٹائے اور عہد کیا کہ آئندہ کسی کو جرأت نہ ہو کہ وہ اس غیر مہذبانہ کردار کو انجام دے اور کسی کی توہین کرے بلکہ ہر اس ہاتھ کو کاٹ دیا جائے گا جو وحدت میں انتشار کا باعث ہو۔

مجلس عمل کے وجود کا اثریہ ہے لوگوں میں ایکدوسرے کیلئے وسعت قلبی پیداہوئی یہی وجہ ہے کہ کل تک جن زبانوں سے شیعہ تکفیر کے نعرے بلند ہوتے تھے اب اسے جرم سمجھا جاتا ہے اور خلاف اسلام تصو ر کیا جاتا ہے بلکہ اب انہی زبانوں سے امریکہ و اسرائیل مردہ باد کے نعرے بلند ہوتے ہیں یزیدیت مردہ باد اور حسینیت زندہ باد کے نعرے بلند ہوتے ہیں۔

اب اتنی وسعت قلبی پیدا ہوچکی تھی کہ کل جنہیں دشمن سمجھتے تھے اب ندامت کا اظہار کرتے ہوئے حقیقی بھائی سے زیادہ تصور کرتے ہیں بلکہ انکے لئے امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے لگانا محال تھا چہ جائیکہ ان کو دشمن سمجھنا مگر اب ہر دل میںامریکہ و اسرائیل کیلئے نفرت گاہ اور مکتب اہل بیت کے مجاہدین آماجگاہ محبت بنے ہوئے ہیں۔

اب بات اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ مسلمانوں کو مشکلات سے نکالنے کیلئے اور جدوجہد کرنے کیلئے فرنٹ لائن پر کوں سرگرم عمل ہے اسلئے مجلس عمل کے وجود کا سب سے مثبت اثر یہ ہے ان کی نگاہیں رہبر معظم کی مجاہدانہ حکمت عملی پر گامزن ہے اور اب وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں عالم اسلام کی رہبری کا حق کسے حاصل ہے۔

آپ کسی کو اپنے مذہب پرزبردستی نہیں لاسکتے اور نہ ہی اپنے نظریات کا قائل کرسکتے ہیں مگر یہ توفیق خداوندی ،نظر خاص امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہے کہ نمائندہ ولی امر مسلمین وقائد ملت جعفریہ حضرت آیت اللہ المجاہدالسید ساجد علی نقوی (حفظ اللہ تعالیٰ) نے کوئی گولی چلائے بغیر ، کوئی مناظرہ کئے بغیر بلکہ اپنی حکمت و دانائی کے اسلحہ سے کامرانی حاصل کی اور یہ ایسی کامرانی ، کامیابی و فتح تھی جس کی خوشبو پورے ارض پر پھیلی ہوئی ہے جیسے دنیاکے عظیم مجاہد حجة الاسلام سید حسن نصر اللہ (حفظ اللہ تعالیٰ)نے یوں بیان کیاہے کہ: ہم رہبر شیعیاں پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی جدوجہد کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ وہ مجاہد ہیں جنہوں نے کوئی گولی چلائے بغیر جنگ جیت لی۔جبکہ خود رہبر معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای (حفظ اللہ تعالیٰ) نے بھی خراج تحسین پیش کیاہے ۔

عزاداری سید الشہداء:

مجلس عمل کے وجود کا اثر یہ ہے کہ کل تک عزاداری کے جلوسوں کی مخالفت ہوتی تھی وہی لوگ بانیاں میں ہوتے ہیں اور جلوس عزاداری کی سرپرستی کرتے ہیں اور عزاداروں کی سہولیات کے اسباب مہیاکرتے ہیں اور سبیلیں لگاتے ہیںاسکے علاوہ جہاں جہاں مومنین کی تعداد کم ہوتی تھی وہاں وہ لوگ عزاداری کے جلوسوں او ر دیگر مراسم کے سلسلے میں خوف محسوس کرتے تھے مگر اب آزادانہ طور پر جلوس نکالے جاتے ہیں اور کوئی محرومت تک نہیں ہوتی اسلئے مجلس عمل کا قابل قدر پہلو یہ نہیں ہے لو گ وحدت کے نعرے لگائیں بلکہ مجلس عمل کے وجود کا سب بڑا اثر یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن تبدیل ہوئے ، سوچوں میں تبدیلی آئی ،فکر آزاد ہوئی او ر دوست و دشمن کی حقیقی معرفت پیداہوئی۔

شریعت بل ٢٠٠٣

سابقہ ادوار میں رسوائے زمانہ مُلاکے پیش کردہ بلو ں کے خلاف آہنی دیوار خود شیعہ قیادت تھی جس نے ہر محاذ پر اسے ناکام کیا مگر اب جب اس ملعوں نے قومی اسمبلی میں شریعت بل پیش کیا تو سب سے بڑی مخالفت خود مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے کی گئی اور اسے ملک دشمن اور اسلام دشمن بل قرار دیاگیا اور بالاخر یہ بل بھی سابقہ ادوار کی طرح ردی کی ٹوکری کی نظر ہوگیا۔

بڑھتے رہیں یوں ہی قد م حی علی خیرالعمل

آخرمیں ہم اپنے محبوب قائدکے ساتھ عہدکرتے ہیں کہ ہرمیداں میں کربلاوالوں کی طرح آپ کے ساتھ ہیں اورحالات کے مطابق آپ کاجوفیصلہ ہوگااس کوجان ودل سے خریدارہیں اوراس راہ میں اپنی جان قربان کرنے کے لئے ہروقت تیارہیں ۔

ملت کو فخر ہے کہ ساجد ہے رہنما

عارف کے بعد عزم خمینی کا پاسباں

آخرین پست ها

بزدلانہ اقدامات سے نہ تو زائرین کی مقدس ہستیوں کے حوالے سے عقیدت و احترام میں کمی لائی جاسکتی ہے اور نہ ہی ان کے شوق زیارت کودبایا جاسکتا ہے۔ ..........یکشنبه 1 تیر 1393

شیعہ علماء کونسل پنجاب کا سانحہ ماڈل ٹاون لاہور میں جانبحق ہونیوالے عوامی تحریک پاکستان کے کارکنان کی رسم قل خوانی میں شرکت اور خطاب ..........یکشنبه 1 تیر 1393

آزادی صحافت کے حامی ہیں، حکومت مثبت تنقید برداشت کرے، صحافی برادری بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق مرتب کرے، شیعہ علماء کونسل ..........یکشنبه 1 تیر 1393

ہمسائیہ ملک سے تعلقات بہتر ہونے چاہئیں مگر مسئلہ کشمیر کے حل کو اولیت دی جائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

کربلا فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام ہے ; قائد ملت جعفریہ پاکستان ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

علامہ محمد رمضان توقیرنے حضرت آیت اللہ سید محمد باقر شیرازی کی وفات پران کے اہل خانہ سے فاتحہ خوانی کی اورقائد ملت جعفریہ پاکستان کا تعزیتی پیغام پہنچایا ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

شیعہ علماءکونسل صوبہ خیبر پختون خواہ کے صوبائی صدرعلامہ محمد رمضان توقیرنے دفترقائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ مشہد کا دورہ کیا ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

جعفریہ یوتھ کے نوجوان مستقبل کی امید اور انقلاب کے لیے اولین معاون ثابت ہوں گے‘ علامہ ساجد نقوی ..........شنبه 3 خرداد 1393

ملک سے دہشت گردوں کا خاتمہ اورامن وامان بحال کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،قائد ملت جعفریہ پاکستان ..........شنبه 3 خرداد 1393

قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کا دورہ نوابشاہ سندھ، مومنین کا شاندار استقبال ..........شنبه 3 خرداد 1393

حراموش میں اسلامی تحریک پاکستان وشیعہ علماء کونسل کے سیاسی سیل کا اہم اجلاس ..........شنبه 3 خرداد 1393

شیعہ علماء کونسل گلگت کا اہم ڈویژنل تنظیمی اجلاس،علامہ شیخ سجاد حسین قاسمی کونیا صدرمنتخب کرلیا گیا ..........شنبه 3 خرداد 1393

اسلامی تحریک پاکستان و شیعہ علماء کونسل کے سیاسی سیل کا دورہ نگرل، انجمن حیدریہ نگرل کا اسلامی تحریک پاکستان پرمکمل اعتماد کا اظہار ..........شنبه 3 خرداد 1393

شیعہ علماء کونسل و اسلامی تحریک پاکستان کے سیاسی سیل کے وفد کی امام جمعہ والجماعت جامع مسجد گلگت آغا سید راحت حسین الحسینی سےخصوصی ملاقات ..........شنبه 3 خرداد 1393

کیا آپ کو معلوم ہے..........یکشنبه 14 اردیبهشت 1393

همه پستها