تبلیغات
شیعه علماء کونسل پاکستان - پوری طاقت و قوت کے ساتھ یک آواز ہوکر اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے پوری قوم کو نکلنا پڑے گا،علامہ ناظر عباس تقوی

 پوری قوم سے کہتا ہوں کہ اپنی عزت اور تحفظ ناموس کے لئے،عزاداری سیدالشہداء کے تحفظ کے لئے اور کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے خلاف بھرپور طریقے سے 14 دسمبر کے احتجاج میں شرکت کریں ،ہم نے اس احتجاج کا نام کفن پوش رکھا ہے،اس کفن پوش مظاہرے میں تمام لوگ بچے بوڑھے، جوان، مائیں ، بہنیں اپنے بچوں اور شیرخواروں کو کفن پہنا کر اس دہرنے میں شریک ہوں اور یہ عہد کر کے نکلیں کہ یہ جان جو پروردگار کی طرف سے امانت ہے سیدالشہداء پرقربان کرنے کے لئے جارہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار شیعہ علماء کونسل سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ ناظر عباس تقوی نے جعفریہ پریس کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے  کیا. انہوں نے مزید کہا کہ میں قوم کے کسی فرد کو خواب غفلت میں نہیں رکھنا چاہتا، کسی سے کوئی ایسا کوئی ایسا واعدہ نہیں کرنا چاہتا جس پر پورا نہ اتر سکیں۔ ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عصرحاضرکی کربلا میں کھڑے ہیں اور اپنی جان کا نذرانہ لے کر اپنے حقوق کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے نزدیک جان زیادہ اہمیت نہیں رکھتی بلکہ تشیع اور ہمارے اہداف اور عقائد ہمارے نزدیک اہم ہیں اس کے تحفظ کے لئے نکلے ہیں- اگر ہمیں جان بھی دینی پڑجائے تو اپنے مکتب کے تحفظ کے اس سے گریز نہیں کریں گے۔ اب وقت آیا ہے اپنی قوم کو اپنے پیروں پرکھڑا کرنا کا ۔ علامہ ناظر عباس تقوی نے  کہا کہ میں تمام علماء کرام، اکابرین ملت، دینی مذہبی اور سماجی شخصیات، اسکالر اور دانشور، تمام تنظیموں و انجمنوں کے سربراہان و کارکنان کو دعوت دیتا ہوں اور فردا فردا بھی ہرایک کے پاس جا رہے ہیں ،ایک ایک کو پیغام دیں گے کہ یہ دہرنا کسی شخص کے لئے یا کسی جماعت کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے نہیں بلکہ خالصتا اپنے مکتب تشیع کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہے سب اپنے گھروں سے باہر نکلیں سب اس دہرنے میں شرکت کریں، بلاتفریق ایک آواز اور ایک موقف ہوں سب مل کر اپنی آواز لوگوں تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہی قومیں اس ملک میں زندہ رہ سکتی ہیں جو اپنے حقوق چھیننے کی طاقت و قوت رکھتی ہوں ،جس قوم کے اندر اپنے حقوق چھیننے کی صلاحیت ہے وہ ہی اس ملک اور اس شہر میں زنده رہ سکتی ہے اور جو قومیں حق چھیننے کی طاقت نہیں رکھتیں تو تاریخ گواہ ہے کہ سرنگونی اس کا مقدر بن گئی۔ سیدالشہداء نے کربلا کے میدان میں پیغام دیا تھا کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے ،آج ہم اس دورانیہ میں آچکے ہیں کہ دشمن ہمیں بار بار ذلیل کر رہا ہے ۔ شاید اسی طرح کا مرحلہ تھا جبکہ قوم سردی اورگرمی کے بہانوں میں تھی تو مولای کائنات نے گلہ و شکوہ کرتے ہوئے فرمایا تها کہ اے مردوں کی شکلوں میں نامردو تمہاری آبادیوں اور عزت و ناموس پرحملے ہو رہے ہیں اور تم سردی اور گرمی کے بہانے میں مصروف ہو ،جب سردی و گرمی سے اتنا خوفزدہ ہو تو دشمن کے تیروں اور تلواروں کا کس طرح مقابلہ کر پاؤگے، تو عزیزان من آج وہ وقت آگیا ہے کہ دشمن ہماری آبادیوں ،ہماری عزت اور ناموس پرحملہ کر رہا ہے اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں اور اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا، پوری طاقت و قوت کے ساتھ یک آواز ہوکر اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے پوری قوم کو نکلنا پڑے گا اور  جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد پروردگار ہے کہ ان تنصراللہ ینصرکم و یثبت اقدامکم اگر تم نے خدا کی راہ میں مدد کی تو خدا بھی تمہاری نصرت کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا، ہمیں کسی سیاسی جماعت سے کوئی بھیک نہیں چاہئے ،ہمیں کسی سیاسی جماعت سے کوئی غرض نہیں- ہم اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے نکلے ہیں اور ہرخطرہ ہمارے پیش نظر ہے، ہمیں روکا بھی جا سکتا ہے، ہمیں مارا بھی جا سکتا ہے، ہمیں بلاسٹ بھی کیا جا سکتا ہے یعنی دشمن جو کر سکتا ہے وہ سب ہم نے اپنے ذہن میں رکھا ہوا ہے، لیکن اگر سارے لوگ بھی قتل کردئے جائیں مگر ہمارا ایک فرد بھی اس دہرنے میں اپنے حق کی آواز بلند کرتا ہے تو یہ حق کی کامیابی ہے اپنے مکتب کی کامیابی ہے اسے کامیاب کرنے کے لئے پوری قوم کے ہر فرد کو اپنے گھر سے نکلنا ہوگا اور ہمارا ہرفرد یہ ثابت کرے گاکہ ہم اپنی جان تو دے سکتے ہیں مگر اپنے مذہب اور مکتب پر کوئی آنچ آنے نہیں دیں گے۔ ہماری ایک ہی آواز ہوگی کہ ہم اس ملک کے پرامن اور مہذب شہری ہیں ہم نے اس ملک کو بنایا تھا اورآج بهی اس ملک کے استحکام کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں ،ہمارا یہ قتل عام اور ٹارگٹ کیوں ہو رہا ہے ؟ ہمیں اس سوال کا جواب دیا جائے ۔ اس سوال کو پوری قوم  یک صدا ہو کر دہرائی گی ۔ پوری قوم مکمل تیاری کرکے آئے یہ نہیں کہ چندگھنٹوں کے لئے جارہے ہیں بلکہ ایک دن ،دو دن ،تین دن،چاردن جب تک ہمارے سوال کا قانع کنندہ جواب نہیں دیا جاتا ہم ثابت قدم رہیں گے۔ ہم اپنے مولای کائنات حضرت امیرعلیہ السلام کی خدمت میں لبیک کہیں گے کہ مولا ہم ان کوفیوں میں سے نہیں کہ سردیو ں اور گرمیوں کا بہانہ کرکے بھاگ جائیں بلکہ اس سردی کی پرواہ کئے بغیر پوری قوم  اور مائیں ،بہنیں اپنے بچوں کے ہمراہ اس دہرنے میں پہنچیں گی-


  • آخرین ویرایش:-
نظرات()   
   
How can you get taller in a week?
دوشنبه 27 شهریور 1396 01:29 ق.ظ
I think this is one of the most vital information for me. And i'm glad reading
your article. But want to remark on some general things, The website style is great, the
articles is really nice : D. Good job, cheers
http://marionbeaty.hatenablog.com/entries/2015/07/03
سه شنبه 24 مرداد 1396 10:44 ق.ظ
Hi there! Do you know if they make any plugins to help with Search Engine Optimization? I'm trying to get my
blog to rank for some targeted keywords but I'm not seeing very good results.
If you know of any please share. Thank you!
 
لبخندناراحتچشمک
نیشخندبغلسوال
قلبخجالتزبان
ماچتعجبعصبانی
عینکشیطانگریه
خندهقهقههخداحافظ
سبزقهرهورا
دستگلتفکر
آخرین پست ها

بزدلانہ اقدامات سے نہ تو زائرین کی مقدس ہستیوں کے حوالے سے عقیدت و احترام میں کمی لائی جاسکتی ہے اور نہ ہی ان کے شوق زیارت کودبایا جاسکتا ہے۔ ..........یکشنبه 1 تیر 1393

شیعہ علماء کونسل پنجاب کا سانحہ ماڈل ٹاون لاہور میں جانبحق ہونیوالے عوامی تحریک پاکستان کے کارکنان کی رسم قل خوانی میں شرکت اور خطاب ..........یکشنبه 1 تیر 1393

آزادی صحافت کے حامی ہیں، حکومت مثبت تنقید برداشت کرے، صحافی برادری بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق مرتب کرے، شیعہ علماء کونسل ..........یکشنبه 1 تیر 1393

ہمسائیہ ملک سے تعلقات بہتر ہونے چاہئیں مگر مسئلہ کشمیر کے حل کو اولیت دی جائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

کربلا فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام ہے ; قائد ملت جعفریہ پاکستان ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

علامہ محمد رمضان توقیرنے حضرت آیت اللہ سید محمد باقر شیرازی کی وفات پران کے اہل خانہ سے فاتحہ خوانی کی اورقائد ملت جعفریہ پاکستان کا تعزیتی پیغام پہنچایا ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

شیعہ علماءکونسل صوبہ خیبر پختون خواہ کے صوبائی صدرعلامہ محمد رمضان توقیرنے دفترقائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ مشہد کا دورہ کیا ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

جعفریہ یوتھ کے نوجوان مستقبل کی امید اور انقلاب کے لیے اولین معاون ثابت ہوں گے‘ علامہ ساجد نقوی ..........شنبه 3 خرداد 1393

ملک سے دہشت گردوں کا خاتمہ اورامن وامان بحال کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،قائد ملت جعفریہ پاکستان ..........شنبه 3 خرداد 1393

قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کا دورہ نوابشاہ سندھ، مومنین کا شاندار استقبال ..........شنبه 3 خرداد 1393

حراموش میں اسلامی تحریک پاکستان وشیعہ علماء کونسل کے سیاسی سیل کا اہم اجلاس ..........شنبه 3 خرداد 1393

شیعہ علماء کونسل گلگت کا اہم ڈویژنل تنظیمی اجلاس،علامہ شیخ سجاد حسین قاسمی کونیا صدرمنتخب کرلیا گیا ..........شنبه 3 خرداد 1393

اسلامی تحریک پاکستان و شیعہ علماء کونسل کے سیاسی سیل کا دورہ نگرل، انجمن حیدریہ نگرل کا اسلامی تحریک پاکستان پرمکمل اعتماد کا اظہار ..........شنبه 3 خرداد 1393

شیعہ علماء کونسل و اسلامی تحریک پاکستان کے سیاسی سیل کے وفد کی امام جمعہ والجماعت جامع مسجد گلگت آغا سید راحت حسین الحسینی سےخصوصی ملاقات ..........شنبه 3 خرداد 1393

کیا آپ کو معلوم ہے..........یکشنبه 14 اردیبهشت 1393

همه پستها