تبلیغات
شیعه علماء کونسل پاکستان - 14 دسمبر دھرنا ہر حال میں ہوگا جس میں ملت جعفریہ کی تمام ملی تنظیمں اور ماتمی انجمنیں شرکت کریں گی ،علامہ ناظر عبّاس تقوی

 14 دسمبر دھرنے میں بشمول جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، جعفریہ الائنس، شیعہ ایکشن کمیٹی، مجلس وحدت مسلمین، پیام ولایت، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، بقیتہ اللہ،  قیام، تنظیم عزا، پاسبان جعفریہ ،جعفریہ لیگل ایڈ کمیٹی سمیت دیگر تمام شیعہ ملی تنظیموں نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کی جانب سے جمعہ 14 دسمبر کے روز نمائش چورنگی ایم اے جناح روڈ کراچی میں شیعہ نسل کشی کے خلاف ہونے والے احتجاجی دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ اس بات کا اعلان کراچی پریس کلب میں ہونے والی شیعہ تنظیموں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان سندھ کے صوبائی جنرل سیکرٹری علامہ ناظر عباس تقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علما کونسل سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ ناظر عبّاس تقوی نے کہا ہے کہ سب سے پہلے ہم تمام صحافی حضرات کے ممنون و مشکور ہیں کہ آپ ہمارے مختصر سے نوٹس پر یہاں تشریف لائے ۔
جیسا کہ آپ حضرات کے علم میں ہے کہ آج کی اس پریس کانفرنس کا مقصد کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ ہے یہ وہ ناسور ہے کہ جس نے اس شہر کی رونقوں کو موت کے اندھیروں میں بدل دیا گھروں کو اجاڑ کر رکھ دیا علاقوں اور محّلوں کو ویرانی میں بدل کر رکھ دیا اور اس دہشتگردی سے کوئی ایک مسلک یا سیاسی جماعت متاثر نہیں بلکہ تمام مسالک کے لوگوں کو بے گناہ و بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے اگر شیعہ کے گھر سے باپ و بیٹے کا جنازہ اٹھتا ہے تو سنّی کے گھر سے بھی باپ اور بیٹے کا جنازہ نکلتا ہے اور لوگوں میں یہ تاثر دینا کہ یہ کوئی شیعہ و سنّی کا مسئلہ ہے یا اسے فرقہ وارانہ فسادات میں تبدیل کرنے کی ایک سنگین سازش ہے جب کہ ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ شیعہ و سنّی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ تمام مسالک کے درمیان مثالی اتّحاد موجود ہے اس کی ایک مثال ملی یکجہتی کونسل و متحّدہ مجلس عمل کا قیام ہے جس میں مسلمانوں کی مسّلم دینی جماعتیں موجود ہیں اس دہشت گردی کے سلسلے کو فرقہ واریت کا نام دینا عوام کے ساتھ دھوکا ہے اور اب عوام ان مسائل کو اور سازشوں کو اچھی طرح 160 جانتے ہیں یہ وہ ہی دہشت گردی کا تسلسل ہے کہ جس میں 160 گزشتہ 15- 20 سالوں سے یہ ملک جل رہا ہے اس دہشتگردی اور دہشتگردوں کو بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ چلایا جا رہا ہے ،گلگت و بلتستان ،پارہ چنار ،صوبہ خیبر پختونخواہ ،پنجاب ،بلوچستان اور اب کراچی ٹارگٹ پر ہے گزشتہ دو سالوں میں اس شہر قائد کو اجاڑ کر رکھ دیا گیا سینکڑوں بے گناہ لوگ موت کی نیند سلا دئے گئے جن کو یہ بھی علم نہیں کہ ہمیں کس جرم میں قتل کیا گیا اور بالخصوص اس شہر کراچی میں شیعہ نسل کشی کی جا رہی ہے ایک گھر سے باپ اور تین بیٹوں کا جنازہ ہے تو کہیں160باپ بیٹا اور پوتا اور اب نوبت یہاں آن تک پہنچی کہ میاں بیوی پاپ بیٹی پر حملہ کر کے ان کو قتل کیا اور حکومت و اس ملک کے ادارے خاموش نظر آتے ہیں آخر عوام سے حقائق کیوں چھپائے جا رہے ہیں ان کو حقائق سے آگاہ کیوں نہیں کیا جا رہا عوام حکومت و سکیورٹی اداروں سے یہ سوال کر رہی ہے کہ یہ دہشتگردی کون کر رہا ہے ان کی پشت پر کون سی قوتیں کار فرما ہیں ان پر سرمایہ کاری کون کر رہا ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اسٹیٹ کے اندر ایک اسٹیٹ قائم ہو اور اس ملک کے ادارے یہ نہ جانتے ہوں دہشتگرد بنانے کی فیکٹریاں چل رہی ہوں اور حکمرانوں کو اس بات کا علم نہ ہو یہ تو ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے لوگوں کی جان ومال کی ذمّہ داری ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے جو اس میں ناکام نظر آتی ہیں کراچی وہ شہر ہے کے جس سے اس ملک کا آدھے سے زیادہ ریوینیو جاتا ہے اس دہشتگردی کے نقصانات نے اور بھتّہ خوری نے تاجروں ، ڈاکٹروں ، انجینئروں، وکلا، تعلیمی افراد کو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا اور بعض افراد ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے رات ہی رات میں ملک چھوڑ دیا ۔ فیکٹریاں جل جاتی ہیں ۳۰۰ بے گناہ لوگ موت کی نیند سو جاتے ہیں حکومت اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی بنا دیتی ہے جس کی تحقیقات کا نتیجہ بروز قیامت ہی آئے گا ۔ دہشتگردی روکنے کے نام پر آپریشن شروع کئے جاتے ہیں ان کو نہ مکمّل چھوڑ دیا جاتا ہے پولیس اور رینجرز امن و امان قائم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے اس ٹارگٹ کلنگ کے خلاف سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا اس پر بھی کوئی عملدرآمد نہیں ہوا اگر اس فیصلہ پر عمل ہوتا تو اس شہر کراچی میں واضح دہشت گردی میں کمی آتی اس پر عمل داری میں کون سی قوت مانع ہے عوام لا علم ہے کسی کو درد نہیں سیاستی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشاں کرتی نظر آتی ہیں اس شہر قائد کی کسی کو فکر نہیں وہ دہشتگرد جماعتیں جن کے نام وفاقی وزیر داخلہ بار بار اپنے بیانات میں اظہار کرتے ہیں کہ مساجد اور امام بارگاہوں میں بے گناہ افراد کے قتل میں مختلف دہشتگرد گروہ شامل ہیں مگر وہ سر عام کام کر رہی ہیں ان کے خلاف کاروائی نظر نہیں آتی حکومت ہوش کے ناخن لے اور دہشت گرد ی کے خلاف سنجیدگی سے قدم اٹھائے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑے آئین و قانون کی عملداری کو یقینی بنائے اسی دہشتگردی کی لعنت کے خلاف اور شہر قائد میں امن قائم کرنے کے لئے کفن پوش دھرنے کا اعلان کیا گیا ہے جو مورخہ ۱۴دسمبر بروز جمّعہ( ایم اے )جناح روڈ پر ہوگا تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے اپیل ہے کہ شہر قائد میں قیام امن کے لئے ہمارا ساتھ دیں تا کہ اس دہشتگردی کی آگ سے شہر قائد کو نکالا جا سکے اور کراچی کی رونقوں کو دوبارہ بحال کیا جا سکے ۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دھرنے میں حفاظتی اقدامات کئے جائیں-
مطالبات :
کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کو بند کیا جائے
کراچی میں دہشتگردوں کے خلاف بلا تفریق فوجی آپریشن کیا جائے
شہر کراچی میں قیام امن کے لئے ضروری ہے کہ اس شہر کو اسلحہ سے پاک کیا جائے
پورے سندھ میں وہ مساجد جو سرکار کے انڈر میں آتی ہیں ان مساجد سے تکفیر کے نعروں کو بند کیا جائے
کراچی میں جاری دہشتگردی میں کونسی قوتیں کار فرما ہیں عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائے

والسلام
ناظر عباس تقوی
جنرل سکریٹری سندھ شیعہ علما ءکونسل پاکستان

شرکاء پریس کانفرنس
۔ مولانا جعفر سبحانی (صدر شیعہ علماء کونسل کراچی ڈویژن)
۔مولانا مرزا یوسف حسین (مرکزی محرّک آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی)
۔مولانا صادق رضا تقوی (جنرل سیکریٹری مجلسِ وحدتِ مسلمین کراچی ڈویژن)
۔ایس ایم نقی ( صدر مرکزی تنظیمِ عزا)
۔ (جعفریہ الائنس پاکستان)
۔ محمد علی شاہ (صدر پاسبانِ عزا پاکستان)
ّجعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن


  • آخرین ویرایش:-
نظرات()   
   
 
لبخندناراحتچشمک
نیشخندبغلسوال
قلبخجالتزبان
ماچتعجبعصبانی
عینکشیطانگریه
خندهقهقههخداحافظ
سبزقهرهورا
دستگلتفکر
آخرین پست ها

بزدلانہ اقدامات سے نہ تو زائرین کی مقدس ہستیوں کے حوالے سے عقیدت و احترام میں کمی لائی جاسکتی ہے اور نہ ہی ان کے شوق زیارت کودبایا جاسکتا ہے۔ ..........یکشنبه 1 تیر 1393

شیعہ علماء کونسل پنجاب کا سانحہ ماڈل ٹاون لاہور میں جانبحق ہونیوالے عوامی تحریک پاکستان کے کارکنان کی رسم قل خوانی میں شرکت اور خطاب ..........یکشنبه 1 تیر 1393

آزادی صحافت کے حامی ہیں، حکومت مثبت تنقید برداشت کرے، صحافی برادری بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق مرتب کرے، شیعہ علماء کونسل ..........یکشنبه 1 تیر 1393

ہمسائیہ ملک سے تعلقات بہتر ہونے چاہئیں مگر مسئلہ کشمیر کے حل کو اولیت دی جائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

کربلا فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام ہے ; قائد ملت جعفریہ پاکستان ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

علامہ محمد رمضان توقیرنے حضرت آیت اللہ سید محمد باقر شیرازی کی وفات پران کے اہل خانہ سے فاتحہ خوانی کی اورقائد ملت جعفریہ پاکستان کا تعزیتی پیغام پہنچایا ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

شیعہ علماءکونسل صوبہ خیبر پختون خواہ کے صوبائی صدرعلامہ محمد رمضان توقیرنے دفترقائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ مشہد کا دورہ کیا ..........چهارشنبه 7 خرداد 1393

جعفریہ یوتھ کے نوجوان مستقبل کی امید اور انقلاب کے لیے اولین معاون ثابت ہوں گے‘ علامہ ساجد نقوی ..........شنبه 3 خرداد 1393

ملک سے دہشت گردوں کا خاتمہ اورامن وامان بحال کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،قائد ملت جعفریہ پاکستان ..........شنبه 3 خرداد 1393

قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کا دورہ نوابشاہ سندھ، مومنین کا شاندار استقبال ..........شنبه 3 خرداد 1393

حراموش میں اسلامی تحریک پاکستان وشیعہ علماء کونسل کے سیاسی سیل کا اہم اجلاس ..........شنبه 3 خرداد 1393

شیعہ علماء کونسل گلگت کا اہم ڈویژنل تنظیمی اجلاس،علامہ شیخ سجاد حسین قاسمی کونیا صدرمنتخب کرلیا گیا ..........شنبه 3 خرداد 1393

اسلامی تحریک پاکستان و شیعہ علماء کونسل کے سیاسی سیل کا دورہ نگرل، انجمن حیدریہ نگرل کا اسلامی تحریک پاکستان پرمکمل اعتماد کا اظہار ..........شنبه 3 خرداد 1393

شیعہ علماء کونسل و اسلامی تحریک پاکستان کے سیاسی سیل کے وفد کی امام جمعہ والجماعت جامع مسجد گلگت آغا سید راحت حسین الحسینی سےخصوصی ملاقات ..........شنبه 3 خرداد 1393

کیا آپ کو معلوم ہے..........یکشنبه 14 اردیبهشت 1393

همه پستها